لاہور کے کن مقامات پر شام سے رات گئے سر عام مکروہ دھندہ ہوتا ہے ؟ امام دین لاہوری کی ڈائری کا ایک صفحہ

لاہور (ویب ڈیسک) جب بھی پاکستان کے کسی شہر میں بچوں و خواتین کے ساتھ بداخلاقی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے اور یہ واقعہ میڈیا کے ذریعے وائرل ہو جائے تو پھر ایک بحث چھڑتی ہے ، ف حاشی کیا ہے ، کیوں عام ہو گئی ہے ، کون پھیلا رہا ہے اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہے ؟

امام دین کو تو اس بات کا دکھ ہے کہ یہ بحث کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے تقریباً ہر چوتھے روز شروع ہوتی ہے اور چار دن جاری رہ کر بے نتیجہ ختم ہو جاتی ہے ۔ مگر ف حاشی اور بے غیرتی کا یہ سلسلہ سر عام جاری و ساری ہے ، آج امام دین لاہوری آپ کو لاہور کے ایک ایسے علاقے کے بارے میں بتائے گا جو جسموں کے کاروبار کا سر عام اڈہ اور سربازار قائم اڈہ ہے ۔۔ کبھی شام کے وقت یا رات گئے آپ کا ٹھوکر نیاز بیگ کے فلائی اوور کے نیچے سے گزر ہوا ہو تو آپ کو شاید معلوم ہو گا کہ وہاں اس وقت درجنوں کے حساب سے خواجہ سرا اور خواتین ایک اندھیرے پارک کے گرد منڈلا رہی ہوتی ہیں ۔ سڑک چھاپ لفنگوں اور مسافروں کے علاوہ عام و مقامی شہریوں کا وہاں بے پناہ رش ہوتا ہے ۔ مگر پارک کنارے اس سڑک پر سر عام سودے بازی یا ڈیلنگ جاری ہوتی ہے ، جیسے ہی کوئی شکار پھنستا ہے ، خواجہ سرا اور یہ بازاری خواتین اسے ساتھ لے کر نہ جانے کہاں (شاید اسی پارک میں ) گم ہو جاتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد جب فریقین کا ٹارگٹ پورا ہو جائے ، شکار اپنا راستہ لیتا ہے اور دکاندار پھر وہیں سڑک پر اپنے جسم کی دکان سجائے نظر آجاتا ہے ۔

یہ شرمناک دھندہ شام لگ بھگ 6 بجے سے رات 11 یا 12 بجے تک سر عام جاری رہتا ہے ۔امام دین کے ذہن میں ایک سوال ہے ۔۔ ان تاجروں اور خریداروں کو کوئی پوچھتا کیوں نہیں ۔نہ انہیں خدا کا خوف نہ بندوں سے حیا ، نہ سڑک سے گزرنے والوں کی فکر ۔۔۔ اور پولیس تو شاید ان مخصوص اوقات میں اس طرف آتی ہی نہیں ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل روزنامہ پاکستان کے ایک نامور کالم نگار نجم ولی خان نے اپنے ایک کالم میں اس طرف اشارہ کیا تھا اور ساری تفاصیل بتائی تھی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سر عام اور بغیر کسی ڈر خوف کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر لاہور میں اگر یہ کام ہو رہا ہے تو کوئی تو اس گندے کاروبار کا سرپرست ہے ، علاقہ کی پولیس کیوں چپ ہے ، (کیونکہ انہیں اس کمائی میں سے حصہ ملتا ہے ) علاقہ کا ایس ایچ او کیوں اندھا ہو گیا ہے ( کیونکہ اسکے ہر روز ککڑ کڑاھیاں اور مچھیاں ) اسی کاروبار کی بدولت آتی ہیں ۔ اس علاقہ میں کئی سرکاری افسران رہتے ہوں گے ۔ وہ کیوں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ؟ اس علاقہ کے مقامی شہری اس بے حیائی کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے، اس جگہ بینر اور اشتہار کیوں نہیں لگائے جاتے اور کیوں حکومت سے تحریری مطالبہ نہیں کیا جارہا ۔

۔ شاید ہم میں سے ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی چار دیواری اور گھر محفوظ ہے ، اسکے بچے گھر پر کھیل رہے ہیں اور خواتین چار دیواری میں محفوظ ہیں اسے کیا ، اس کی جانے بلا ۔۔۔یہاں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ جناب امام دین لاہوری کے خیال میں تو پاکستان میں بے حیائی ، ف حاشی اور بدکاری کے بڑھنے کی اصل وجہ ہم خود اور ہمارا رویہ ہے۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے کی وجہ سے ہی نوبت یہ آگئی کہ ہوس کے مارے اس گندے کاروبار کے دکاندار اور گاہک سر بازار ، سر عام سودے بازی میں مصروف ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی انہیں پوچھنےو الا نہیں ۔۔۔۔ ( اللہ آپ سب کو بمع اہل و عیال اپنی حفظ و امان میں رکھے کیونکہ اور کسی سے کوئی امید نہیں )

اپنا تبصرہ بھیجیں