بریکنگ نیوز: انسانی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ۔۔۔ آرمینیا اور آذربائیجان جنگ میں اب تک کتنی ہ لاکتیں ہو چکی ہیں ؟ ہوش اڑ ا دینے والی تفصیلات

باکو(ویب ڈیسک) آرمینیا کے زیر تسلط آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں دونوں ممالک کے درمیان جاری ل ڑائی میں شدت آگئی ہے جبکہ ہ لاکتوں کی تعداد 542 سے تجاوز کرگئی ہے، جس کے نتیجے میں بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا

نے جنگ بندی پر اتفاق کے بعد تیسرے روز بھی ل ڑائی جاری رکھی اور ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ کے پہاڑی قصبے مارتونی میں شیلنگ کی گئی، اسی طرح آذربائیجان کے شہر ترتار میں بھی شیلنگ ہوئی۔آذربائیجان نے آرمینیا کی فوج پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی بنیادوں پر کی گئی عارضی جنگ بندی کی مکمل خلاف ورزی کر رہی ہے۔خیال رہے کہ 10 ستمبر کو دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ق یدی اور لا-شیں واپس کرنے پر متفق ہوگئے تھے۔آذربائیجان کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آرمینیا نے ہمارے علاقوں گورنبائے، آغدم اور ترتار میں شیلنگ کی جبکہ ہماری فورسز نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھیدوسری جانب آرمینیا کی وزارت دفاع کی ترجمان سشان اسٹیپانیان نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آذری فورسز نے رات گئے اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی فورسز نے جنوب، شمال، شمال مشرقی اور مشرقی اطراف سے شدید شیلنگ اور آرٹلری فائر کیے۔رپورٹس کے مطابق تازہ ج ھڑپوں میں میں ہ لاکتوں کی تعداد 542 ہوگئی ہے، نیگورنو-کاراباخ کے حکام کا کہنا تھا کہ ہ لاک ہونے والے تمام افراد فوجی ہیں اور دو روز میں 17 اہلکار ما-رے گئے۔آذربائیجان نے27 ستمبر سے اب تک 42 شہریوں کی ہ لاکت اور 206 افراد کے ز-خمی ہونے کی تصدیق کی جبکہ فوج کے جانی نقصان سے آگاہ نہیں کیا۔انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ریجنل ڈائریکٹر مارٹن شیوپ کا کہنا تھا

کہ ان کا ادارہ گرفتار اور ل ڑائی کے دوران ما-رے گئے افراد کی لا-شوں کی واپسی کے لیے سہولت کاری کرنے کی مسلسل کوششیں کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی حالات کے باعث متاثرہ تمام علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ادھر عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جیساروک نے جنیوا میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ کووڈ-19 کے پھیلاو کے باعث تنازع مزید بدتر ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آرمینیا میں کورونا کیسز کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے جبکہ آذربائیجان میں گزشتہ ہفتے ایک اندازے کے مطابق کیسز میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے نظام پر براہ راست اثر پڑنے سے معاملات مزید گھمبیر ہوجائیں گے جبکہ عالمی وبا سے حالات پہلے ہی ابتر ہیں۔یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہ لاک ہوئے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی ل ڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ ج ھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہ لاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری ج ھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہ لاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں