دال میں کالا سب کو نظر آنے لگا : گزشتہ سال روزویلٹ ہوٹل نے تمام ٹیکسز ، ادائیگیاں اور اخراجات ادا کرنے کے بعد بھی کتنا منافع دیا ؟مقتدر جماعت میں سے کس کی اس ہوٹل پر نظر ہے ؟ امریکہ مقیم پاکستانی صحافی کے انکشافات

نیویارک (ویب ڈیسک) نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ نیویارک ہوٹل کے 31 اکتوبر کو بند کئے جانے کے اعلان نے ہوٹل مالکان کیلئے مسائل اور متعدد جواب طلب سوالات کو جنم دیدیا ہے، روز ویلٹ ہوٹل کے بارے میں اصل حقائق نامعلوم، مستقبل غیر یقینی ہے۔ہوٹل بند کرنے کی

اصل وجوہات اور تمام حسابات عوام کے سامنے لائے جائیں۔نامور صحافی ایم عظیم میاں اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ماضی میں متعدد حکومتوں کے ارباب اقتدار کی جانب سے اس ڈیڑھ ارب ڈالرز کی مالیت کے ہوٹل کو ٹھکانے لگا کر ذاتی مفاد حاصل کرنے کی ناکام کوششوں کے علاوہ موجودہ حکومت کی جانب سے اس ہوٹل کو بند کرنے اور بعض مقتدر افراد کے دولت کمانے کی خاموش کوششوں نے بھی پُراسراریت کو ہوا دی ہے۔نیویارک میں کمرشل پراپرٹی کے ڈیلروں کا کہنا ہے کہ ہوٹل کو مستقل بند کرنے سے نہ صرف اس پراپرٹی کی مالیت کم ہو جائے گی بلکہ بند عمارت سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی سامنا کرنا ہوگا جبکہ ہوٹل میں موجود کئی اعلیٰ اور مہنگے اسٹورز کے کرایہ دار بھی مقدمات کھڑے کر سکتے ہیں۔ ملازمین کی یونین اور مرکزی علاقے میں پورے ایک بڑے بلاک پر واقع تاریخی اور مرکزی پراپرٹی کا مستقبل طے کئے بغیر مستقل بند کر دینا نیویارک سٹی کے حکام کی توجہ اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی دعوت بھی دے گا۔کورونا کے باعث ہوٹل کے کاروبار میں مالی اور دیگر نقصانات بارے ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں چھوٹ، بے روزگار کئے جانے والے ملازمین کیلئے معقول اضافی بے روزگاری الائونس حکومت کی جانب سے دیا گیا ہے۔اسی طرح کرایہ داروں کے کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی جا رہی ہے اور شہر کے دیگر بڑے ہوٹل بھی انہی حالات سے گزررہے ہیں اور ان مراعات کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ امریکہ میں روز ویلٹ ہوٹل کے

حکومت کے پاس فائل کردہ گوشوارے کے مطابق روز ویلٹ ہوٹل نے صرف پچھلے مالی سال میں تمام ٹیکس اور اخراجات کی ادائیگی کے بعد بھی 28 ملین ڈالرز کا منافع حاصل کیا ہے۔کورونا کے ان ایّام میں ہونے والے نقصان کو امریکی حکومت کی مراعات اور پچھلے سالوں کے منافع سے بھی باآسانی پورا کر کے ہوٹل کو نیویارک کے دیگر بڑے ہوٹلوں کی طرح مستقل بند کرنے سے روکا جا سکتا تھا۔ اسی طرح بنک پر 105 ملین ڈالر کے قرضہ کے حوالے سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو پاکستانی حکومت یہ تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے کہ آخر جے پی مارگن جیسے مضبوط امریکی اور عالمی شہرت یافتہ بنک نے یہ قرضہ کیوں اور کیسے ایک دوسرے مالی ادارے کو فروخت کیا اور اس کام میں کونسی پاکستانی یا امریکی شخصیات کا کوئی رول یا مفاد بھی تھا؟ کیونکہ جے پی مارگن یعنی چیز بنک کیلئے 105 ملین ڈالر کا قرضہ رکھنا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔دُوسرے یہ حقیقت بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ جے پی مارگن سے روز ویلٹ ہوٹل کے نام کا قرضہ خریدے والی کمپنی نے صرف اس ڈیل کیلئے ایک نئی ذیلی کمپنی بنام (MSD XXII, L.L.C) قائم کرنے والوں میں عہدیداروں کے نام کیا ہیں؟ جبکہ 22 جون 2020ء کو جے پی مارگن کی جانب سے قرضہ اس کمپنی کو فروخت (Assign) کی حقیقی وجوہات کو بھی سامنے لانا ضروری ہے۔ روزنامہ JANG‘ کی اطلاع کے مطابق یہ دستاویزات 15 جون کو جب تیار کی گئیں تو روز ویلٹ ہوٹل کے معاملات سے ڈیل کرنے والی بعض پاکستانی شخصیت بھی نیویارک میں موجود تھی۔سب سے اہم اور بڑا سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ 31 اکتوبر کو روز ویلٹ ہوٹل کو بند کرنے کے بعد آخر اس عمارت کا مستقبل کیا ہے؟ کیا عمارت بند کر کے اس کی دیکھ بھال پر اخراجات اور عمارت کی تعمیر اور شان و شوکت میں تنزلی کا انتظار کیا جائے گا۔اس عمارت کو منافع بخش بنانے کیلئے کوئی ایسا پلان موجود ہے کہ مزید اخراجات کئے بغیر اسے منافع بخش بنایا جاسکے۔ روز ویلٹ ہوٹل کے ایک کمرہ میں بھوتوں کی پُراسرار موجودگی کے علاوہ اس کے مالی معاملات بارے خاموشی اور مستقبل کے حوالے سے بھی پُراسراریت اس پاکستانی عوامی اثاثہ کے قانونی اور مالی بدعنوانی کے پہلوؤں کیلئے بھی کوئی نیک شگون نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں