میں جمہوریت اپوزیشن چور : آخر خان صاحب کس منہ سے جمہوریت کا ٹھیکیدار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ ۔۔۔۔ سینئر صحافی عارف نظامی نے مشکل سوال تبدیلی والوں کے سامنے رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) میں جمہوریت ہوں، اپوزیشن چور”۔ یہ منتخب جمہوری وزیراعظم جناب عمران خان کا تازہ فرمان ہے۔ خان صاحب نے اسلام آباد میں آل پاکستان انصاف لائرز فورم کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیاستدانوں کو بیروزگاروں کا ٹولہ قرار دیا۔ وزیر اعظم کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طرف سے استعفیٰ مانگنے پر نواز شریف خاموش رہے تھے کیونکہ جنرل صاحب کو ان کی چوری کا علم تھا۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بلاواسطہ طور پر فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش ہے۔ فوج کا کام سیاست میں ملوث ہونا نہیں بلکہ اپنا پروفیشنل کام کرنا ہے لیکن یہاں ماضی میں جب بھی الٹی گنگا بہی جمہوریت کو ہی نقصان پہنچا۔ اب موجودہ وزیراعظم اسی پْر پیچ اور خطرناک راستے پر گامزن ہوگئے ہیں لیکن خان صاحب کا یہ دعویٰ کہ میں ہی جمہوریت ہوں، خاصا معنی خیز ہے۔ ان کے ناقدین اسے فاشزم کی طرف پیش قدمی قرار دے سکتے ہیں۔ جمہوری نظام میں اپنے ووٹ سے حکومت کو منتخب کرنے والے عوام ہی ضامن ہوتے ہیں۔ کوئی یہ کہے کہ میں ہی جمہوریت ہوں یہ ایسے ہی ہے کہ کہا جائے کہ میرا نام ہی پاکستان ہے ، میرا نام ہی جمہوریت ہے اور میرے سوا کچھ بھی نہیں۔ 2018ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو 16,903,702 ووٹ ملے، مسلم لیگ )ن( کو 12,934,589 اور پیپلزپارٹی کو 6,924,356 ووٹ ملے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کوئی بھی جمہوریت کا ٹھیکیدار ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جہاں تک حب الوطنی کا تعلق ہے ایک جمہوری نظام میں اتنے ہی اپوزیشن کے منتخب ارکان محب وطن ہیں جتنے حکمران۔ مزید برآں کسی کو غدار قرار دینے سے وہ غدار نہیں بن جاتا۔ مہذب ملکوں میں جہاں جمہوری ادارے مضبوط ہوں غداری کا لیبل سوچ سمجھ کر ہی چسپاں کیا جاتا ہے لیکن حال ہی میں دو سابق وزرائے اعظم،تین ریٹائرڈجرنیلوں،

آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم پر غداری کی تہمت لگائی گئی ہے، اس میں غداری کا الزام لگانے والے بدر رشیدحکمران جماعت کے ہی رکن ہیں۔حکومت نے مدعی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ الزامات واپس لیے گئے ہیں اور نہ ہی مدعی کا کوئی بیان سامنے آیا ہے بلکہ پر اسرار طریقے سے اس شخص کو “غائب” کر دیا گیا ہے۔ موصوف نے میڈیا سے کوئی بات کی ہے اور نہ ہی اپنے الزامات کی خود کوئی وضاحت کی ہے بلکہ حکومت کی طرف سے اسی قسم کا استدلال پیش کیا گیا ہے کہ ہیں تو اپوزیشن والے غدار، لیکن ہم نے ان پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ خان صاحب نے اپنے اسی خطاب میں یہ وارننگ بھی دی ہے کہ جتنے مرضی جلسے کر لیں لیکن قانون توڑا تو عام آدمی والی قید میں جائیں گے۔ یعنی حکومت کا بس چلے تو وہ اب بھی اپوزیشن کی لیڈرشپ کو پکڑ کر قید خانے بھر دے۔ میاں نواز شریف کو بھگوڑا قرار دے کر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اقدام یعنی سابق وزیراعظم کی شہریت منسوخ کرنے کا پروگرام بنا یاجا رہا ہے، اس ضمن میں قانونی پوزیشن کیا ہے یہ تو قانون دان ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس قسم کے روئیے ہمارے جسد سیاست پر جو منفی اثرات مرتب کررہے ہیں وہ وطن عزیز میں جمہوری اداروں کے فروغ کے حوالے سے انتہائی مضر ثابت ہونگے۔ خان صاحب کے مطابق بے روز گار سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے ہیں ،یہ بات تکنیکی طور پر کسی حد تک درست ہے لیکن یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ جن سیاستدانوں کو اقتدار نصیب ہوا ہے

یہ ایک مقدس امانت ہے کوئی ٹھیکیداری نہیں جو انہیں سونپ دی گئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اپوزیشن کو ایسے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو 1972ء میں وزیراعظم بنے تو وہ بھی ایسے ہی القابات سے اپوزیشن کوللکارا کرتے تھے، اسی طرز تکلم اور عدم برداشت کے روئیے کی بنا پر ہی اپوزیشن کی حکومت کو ہر حال میں گرانے کی کوششیں بالآخر رنگ لائیں اور 1977ء میں اپوزیشن کے سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر جنرل ضیاء الحق نے تمام سیاستدانوں کی چھٹی کرا دی اور خود اقتدار پر قابض ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے گیارہ سال کے طویل دور اقتدارکا جو نتیجہ نکلا پاکستان آج تک اس کے منفی اثرات سے نبردآزما ہے۔ ٍجمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کو ٹھنڈی کر کے کھانی چاہیے لیکن فی الحال ‘جیو اور جینے دو’ کا رویہ سامنے نہیں آیا۔ پاکستان میں شدید سیاسی محاذ آرائی اب انتہا کو پہنچ رہی ہے اسے کم کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو عوام بھی ایسی جمہوریت سے متنفر ہو سکتے ہیں۔ 2006 ء میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی پر انہی رویوں کی بنا پر دستخط کیے گئے تھے، اس میں جو رولز آف گیم بنائے گئے تھے ان پر تھوڑا بہت عمل بھی ہوا لیکن خان صاحب نے اس کو مک مکا قرار دیا۔ 2014ء کے دھرنے سے لے کر 2018ء کے انتخابات تک اور بعدازاں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے دو سال کے دوران اس محاذ آرائی میں مزید اضافہ ہوا۔ برداشت کا مادہ معدوم ہو چکا ہے اور اب تو اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی اس قسم کی جمہوریت سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر محاذ آرائی اور نفسانفسی کی کیفیت کے باوجود ملک ترقی کر رہا ہوتا تو اس نظام کو بھی طوہاً وکرہاً عوام تسلیم کر لیتے لیکن گورننس اور اقتصادی صورتحال گزشتہ دو برس سے روبہ زوال ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کے خوشامدی اور انواع و اقسام کے ترجمان دن رات چینلز پر ڈینگیں مارتے رہتے ہیں کہ ہم نے ترقی کے ماضی کی حکومتوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور جو مسائل موجود ہیں وہ سابق حکومتوں کی نالائقی اور مالی بدعنوانی کی بنا پر ہیں۔ مالی بدعنوانی سے بھی بڑا مرض نالائقی ہے جوموجودہ حکومت میں بدرجہ اتم موجود ہے لیکن وزیراعظم اور ان کی ٹیم عدم کارکردگی کو بلند بانگ دعوئوں اور اپوزیشن کی چھترول کرکے کور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ )ن( کی تحریک کامیاب بھی ہوگئی تو مزید نفسانفسی کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔ اللہ پاکستان کے عوام کے حال پر رحم فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں