بھارت میں کورونا نے تباہی مچا دی ، جبکہ پاکستان نسبتاً محفوظ رہا ، آخر کیوں ؟ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کی ایک شاندار اور معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) عنایاتِ ایزدی کے علاوہ جن وجوہات کی بناء پر خدا نے پاکستان کو اب تک نسبتاً اس وبا سے محفوظ کر رکھا ہے ان میں مذہبی اور سماجی وجوہات پیش پیش ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جن تین احتیاطوں کی تاکید کر رکھی ہے وہ ماسک کا استعمال، بار بار ہاتھ دھونا اور لوگوں سے

نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔6فٹ کا باہمی فاصلہ شامل ہیں۔ پاکستان کی بیشتر آبادی پانچ وقت کی نماز کی پابند ہے۔ وضو کا مطلب ہاتھ، منہ، پاؤں، ناک اور بازوؤں کی صاف پانی سے صفائی اور دھلائی ہے۔ اگر پاکستان کی نصف آبادی بھی نماز کی پابند ہے تو کورونا کی احتیاطی تدابیر کا ایک رکن تو پورا ہوا……اس کے مقابلے میں مغرب کو دیکھئے…… آپ حیران ہوں گے کہ وہاں غسل خانوں میں طہارت کے لئے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ صرف گیلے کاغذ سے صفائی کرلی جاتی ہے۔ وہ لوگ اتوار کے اتوار گرجا گھروں کا رخ کرتے ہیں اور وہ بھی آبادی کا 20واں حصہ…… ہر مسلمان بالعموم روزانہ یا دوسرے تیسرے دن نہاتا ہے (خواہ موسم کوئی بھی ہو) لیکن عیسائی دنیا تو اس وقت بھی غسل سے اجتناب کرتی ہے جب ہمارے ہاں غسل واجب / فرض ہو جاتا ہے!…… جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے تو وہ لوگ بھی نہانے دھونے سے گریزاں رہتے ہیں۔میں آزادی سے قبل کی ”پیداوار“ ہوں میں جب بھی کبھی صبح سویرے گلی میں جاتا تو دیکھا کرتا کہ کئی ہندو گڑوی ہاتھ میں لے کر کہیں جا رہے ہوتے تھے۔ ایک دن میں نے والد صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ یہ لوگ جن کے سروں پر بودی ہوتی ہے اور لنگی زیبِ کمر ہوتی ہے، ہاتھ میں پانی کا لوٹا (گڑوی) لئے کدھر جاتے ہیں؟ والد صاحب نے جواب دیا: ”یہ ’اشنان‘ کرنے جاتے ہیں۔ آبادی سے باہر جا کر کھیتوں میں لنگی سے فارغ ہو کر غسل کرتے ہیں۔

اور غسل کے لئے صرف ایک گڑوی پانی سے زیادہ استعمال کرنے کو پاپ (گناہ) سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے اس طرح پانی کا ضیاع گناہ ہے“…… میں سن کر حیران ہوا کہ ہم تو جب نہاتے ہیں تو کم از کم دو بالٹیاں بھی کم ہو جاتی ہیں تو یہ کیسی قوم ہیں کہ پانی کی ’بچت‘ کا یہ انوکھا طریقہ نکالا ہوا ہے۔مسلمان گاؤں کا ہو یا شہر کا کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھوئے گا۔ دوسرے لفظوں میں اگر وہ نماز کا پابند بھی ہے تو دن میں 8مرتبہ ہاتھ دھوئے گا۔(پانچ بار وضو کرتے ہوئے اور تین بار ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا کھاتے ہوئے)ایک اور سماجی روائت جو ہمیں کورونا سے بچاؤ کا باعث بنی وہ لانگ ویک اینڈ کا وہ کلچر ہے جو مغرب اور مشرق میں وجہِ امتیاز ہے۔ ہم یہ ویک اینڈ (ہفتہ اور اتوار) یا تو سو کر گزارتے ہیں اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو ہفتہ بھر کے وہ کام جو وقت طلب (Time Consuming) اور محنت طلب ہوتے ہیں ان کو اتوار پر اٹھا رکھتے ہیں۔ہمارے مقابلے میں مغرب کا نوجوان، جوان اور بوڑھا اپنی کسی ہم عمر لڑکی، عورت یا بڑھیا کو لے کر ساحلِ سمندر (Beach) کا رخ کرتا ہے۔ پاکستان سمندری قوم (Sea faring Nation) نہیں۔ ہماری 70 فیصد آبادی نے سمندر نہیں دیکھا۔ وہ صرف فلموں یا ڈراموں میں ساحلِِ سمندر کا نظارہ کرتی ہے۔ لیکن مغرب میں ویک اینڈ پر اپنے کمرے میں بند ہو جانا ’گناہِ کبیرہ‘ ہے۔ وہ ساحلِ بحر پر جاتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لئے الف (یا تقریباً الف) ہو جاتے ہیں، شام کسی بار میں گزارتے ہیں اور اتوار کی شب اپنے اپنے کمروں کی راہ لیتے ہیں۔خواجہ حافظ شیرازی نے اس ویک اینڈ کا نقشہ اپنے سماجی ماحول کے تناظر میں یوں کھینچا تھا: ”صبح سویرے جب لوگ کاروبار کو نکلتے ہیں تو محبت کے مارے اپنے محبوب کی گلی کا رخ کرتے ہیں“۔ علی الصباح کہ مردم بہ کاروبار روند۔۔بلاکشانِ محبت بہ کوئے یار روند۔۔لیکن مغرب کے عشاق کو محبوبہ کی گلی میں نہیں جانا پڑتا بلکہ محبوبہ خود عاشق کی تلاش میں اس کے کمرے کی گھنٹی (Bell)بجاتی ہے اور دونوں بغل میں وہسکی کو بوتلیں دبائے ’کوئے یار‘ کی بجائے ’سوئے بحرِ ذخّار‘ چل پڑتے ہیں ……تفنن برطرف پاکستان کے کاروبارِ عشق و عاشقی کا کلچر نہ صبح و شام کا پابند ہے اور نہ ساحلِ بحر و بر کا بلکہ وہ ویک اینڈ کی شب فراقِ یار میں کھویا غلام علی کی آواز میں یہ گیت گا رہا ہوتا ہے:آدھی رات کو یہ دنیا والے جب خوابوں میں کھو جاتے ہیں ۔۔ایسے میں محبت کے روگی یادوں کے چراغ جلاتے ہیں ۔۔اب آدھی رات کو اکیلے میں کورونا کسی کا کیا بگاڑ لے گا؟……ہماری ایک ملازمہ کے بھائی کی شادی تھی وہ چھٹی لے کر مئی (2020ء) کی کسی تاریخ کو اپنے گاؤں چلی گئی۔ جب واپسی کا فون کیا تو ہم نے کہا کہ جب کورونا

کی ’لہر‘ ختم ہو جائے تو پھر آنا۔ہمارے ہاں ملازموں کے قرنطینہ کا کوئی بندوبست نہیں۔ اس کا گاؤں (ڈوگرائی) حجرہ شاہ مقیم سے 10، 12 میل کے فاصلے پر منڈی احمد آباد (سابقہ منڈی ہیراسنگھ) کے نزدیک واقع ہے۔ وہ جب بھی واپس آنے کا فون کرتی ہم Avoid کرتے کہ خواہ مخواہ کورونا کے جراثیم لے کر آ جائے گی اور بجائے Asset کے Liability بن جائے گی۔ چنانچہ ہم ٹالتے رہے۔ اس کا استدلال تھا کہ ڈوگرائی میں کم از کم دو تین سو گھر ہیں، وہاں تو کوئی احتیاط نہیں کرتا اور کسی کو بھی کورونا نہیں ہوا۔ ایک دن ہم نے پوچھا: ”کیا لوگ وہاں ماسک پہنتے ہیں؟“…… کہنے لگی: ”بالکل نہیں …… البتہ پانچوں وقت کے نمازی ہیں اور عورتیں چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ کر باہر نکلتی ہیں۔ہر گھر میں لٹیرین اور غسل خانہ ہے اور سیوریج کا انتظام بھی ہے…… شادیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔ اس گاؤں میں چار مسجدیں ہیں اور پولیس والے ماسک چیک کرتے ہیں اس لئے زیادہ تر لوگ گھروں ہی میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔سکول بند ہیں اور چونکہ ہر گھر میں TVہے اس لئے لوگ کورونا کی خبروں سے باخبر رہتے ہیں۔ ویسے بھی ہم شام 7،8 بجے تک رات کا کھانا کھا کر سو جاتے ہیں اور صبح سویرے منہ اندھیرے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہر گھر میں اپنی تندوری ہے۔ گاؤں میں گوشت کی صرف ایک دکان ہے۔ لوگ دالوں اور سبزیوں کے عادی ہیں۔ رات کو ہر گھر میں دال چاول کی ڈش ایک معمول ہے……“میں اس گاؤں کا مقابلہ انڈیا کے دیہاتوں سے کرتا ہوں تو پاکستان کی دیہی آبادی میں کورونا کے (تقریباً) نہ ہونے کی وجوہات کا پتہ چلتا ہے۔ انڈیا کی دوتہائی آبادی(ہماری طرح) دیہاتوں میں رہتی ہے لیکن ان کی اپنی زمینیں کم ہیں (مشرقی پنجاب کو چھوڑ کر) اس لئے وہ کسبِ روزگار کے لئے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ مودی نے 6ماہ قبل جو لاک ڈاؤن کر دیا تھا اس کے بھیانک نتائج آپ ہر روز میڈیا پر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے پاکستان کے ’مہاغریب‘ طبقات کو ’احساس‘ پروگرام وغیرہ کے تحت ریلیف مل گیا اور ہم نے انڈیا کے علی الرغم سمارٹ لاک ڈاؤن کی پیروی کی جس سے انڈیا اب تک ’محروم‘ ہے……میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کے خوفناک اثرات ویسے نہیں جیسے دوسرے کئی ملکوں میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں