خبریں کیا چلتی رہیں اور حقیقت کیا نکلی! عمران خان کی حکمتِ عملی نے کس طرح ’ روز ویلٹ ہوٹل ‘ کو فروخت ہونے سے بچا لیا؟ ناقابلِ یقین تفصیلات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) حکومت نے امریکی کمپنی کی جانب سے روز ویلٹ ہوٹل کو تحویل میں لینے کی کوشش ناکام بنا دی، پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کی خبروں کی تردید، ہوٹل کے ذمے 105 ملین ڈالرز قرض کی ہنگامی بنیادوں پر ادائیگی کرنا پڑی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی

وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیویارک میں واقع پی آئی اے کے ہوٹل روز ویلٹ کو ایک امریکی کمپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہی تھی۔روز ویلٹ نے ایک امریکی بینک سے 105 ملین ڈالرز کا قرض لے رکھا تھا۔ امریکی بینک نے یہ قرضہ ایک نجی کمپنی کے سپرد کر دیا۔ کمپنی نے ہوٹل کو فوری قرض ادا کرنے کا نوٹس بھیجا۔یہ کمپنی روز ویلٹ ہوٹل تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتی تھی، تاہم حکومت نے ہنگامی طور پر نیشنل بینک کے ذریعے 105 ملین ڈالرز کا قرض ادا کر کے ہوٹل کو بچایا۔ وزیراعظم نے روز ویلٹ ہوٹل کو قرضے سے نکالنے کیلئے خصوصی دلچسپی دکھائی۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ ہوٹل کی فروخت کے حوالے سے چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ روز ویلٹ ہوٹل 2018 سے خسارے میں جانا شروع ہوا، جبکہ کرونا بحران کی وجہ سے پوری دنیا کی ہی ہوٹل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی۔ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں اب تک 100 سے زائد بڑے ہوٹل بند ہو چکے، کرونا بحران کی وجہ سے روز ویلٹ ہوٹل بھی متاثر ہوا۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل 31 اکتوبر کی بجائے 31 دسمبر سے بند ہوگا۔ ہوٹل کو فروخت کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ واضح رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل خالصتاً پاکستان کی پراپرٹی ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ کچھ روز قبل روز ویلٹ انتظامیہ نے اپنی ویب سائٹ پر پیغام جاری کیا تھا کہ 100 سال تک خدمات فراہم کرنا والا مشہور ہوٹل 31 اکتوبر سے بند ہونے جا رہا ہے۔ بعد ازاں یہ پیغام ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ خبریں سامنے آئیں کہ حکومت پی آئی اے کا قرضہ اتارنے کیلئے ہوٹل کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں