معاملہ شیخ رشید کو ’ شاملِ تفتیش‘ کرنے تک جاپہنچا

کراچی (نیوز ڈیسک) سندھ حکومت نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو مولانا عادل ق ت ل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ شیخ رشید کے بیان کے ایک افسوسناک واقعہ ہوا ، جس میں پاکستان ایک عظیم

عالمِ دین سے محروم ہوگیا، اس لیے ان کو اس کیس میں شامل تفتیش کیا جائے ، شیخ رشید نےکہا اپوزیشن کے جلسوں میں کورونا بڑھ سکتاہے اور افسوسناک حادثات پپیش آسکتے ہیں، مولانا عادل کے بیٹے نے سیکیورٹی سے متعلق بات کی تھی ، تسلیم کرتاہوں مولانا عادل کو بروقت سیکیورٹی نہیں دی گئی ، سیاسی اور مذہبی رہنماوَں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہونا چاہیے ، ایک اورمذہبی رہنما کو 8 ماہ کی جدوجہد کے بعد سیکیورٹی دلوائی، کیوں کہ سیکیورٹی دینے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ تھا ۔پریس کانفرنس میں سعید غنی نے کہا کہ سیکیورٹی دینے کے لیے عدالتی حکم پرکمیٹی بنائی گئی ، ایک ادارےکا شخص کہتا کہ سیکیورٹی ملنی چاہیے دوسرا کہتا ہے نہیں ملنی چاہیے ، سیکیورٹی اسسٹمنٹ کمیٹی میں مختلف اداروں کے لوگ شامل ہیں ، کمیٹی نہ ہوتی تو ایک گھنٹے میں مولانا عادل کو سیکیورٹی فراہم کر دیتے ۔ واضح رہے کہ ہفتے کی شام کو کراچی میں موٹرسائیکل سواروں کی فا_ئر_نگ سے مولانا عادل اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے ، مولانا عادل شاہ فیصل کالونی میں ڈبل کیبن گاڑی میں جارہے تھے کہ گاڑی پر فا_ئر_نگ کردی گئی ، واقعے کے بعد ریسکیو والوں نے مولانا عادل اور ان کے زخمی ڈرائیور کو ہسپتال منتقل کیا ، مولانا عادل بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ مولانا عادل کو گردن اور پیٹ میں گو_لیا_ں لگیں، جن کی وجہ سے مولانا عادل ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جاں بحق ہوچکے تھے ،جب کہ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ، پولیس کو جائے وقوعہ سے گولیوں کے 5 خول ملے ہیں، مولانا عادل وفاق المدارس العریبیہ پاکستان کے مرکزی عہدیدار بھی تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں