دھندہ ہے پر گندہ ہے : سرگودھا میں معروف ٹرانسپورٹر سمیت متعدد مالدار آسامیوں سے مال بٹورنے والی حسینہ ثنا شاہ ۔۔۔۔ رنگین و سنگین کرتوت کھل کر سامنے آگئے

سرگودھا (ویب ڈیسک) 2019 میں ہی ثناء شاہ نامی خاتون کی وساطت سے سرگودھا کے ایک بڑے ٹرانسپورٹر کو اپنے جال میں پھنسا کر ایک گروہ نے ٹرانسپورٹر کیخلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ نمبر 218/19 تھانہ ساجد میں درج کروایا اور پھر بھاری معاوضہ لے کر عدالت میں گواہ منحرف ہو گئے،

سرگودہا سے نامور صحافی سجاد اکرم اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جس پر تھانہ ساجد پولیس کے سب انسپکٹر اشتیاق کی مدعیت میں مقدمہ کی مدعیہ ثناء شاہ اور گواہان کیخلاف مبینہ ملزم سے بھاری رقم وصول کر کے عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہونے پر مقدمہ نمبر 403/19 درج کروایا، جس کا بھی سول کورٹ میں کیا نتیجہ نکلا یہ ایک الگ داستان ہے۔ تا ہم اس گروہ کی پشت پناہی ایک حاضر سروس ڈی ایس پی اور پولیس اہلکار کرتے رہے۔ 2019 اور جون 2020 تک راقم کی معلومات کے مطابق درجنوں شرفاء سے اس نوعیت کے مختلف گروہوں نے مختلف تھانوں میں درخواستیں جو براہ راست ڈیل شدہ تھانیداروں کو دے کر لاکھوں روپے ہتھیائے، جو سادہ لوح لوگ اس گروہ کا شکار بنے وہ عزت کے مارے خاموش رہے۔ یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس نوعیت کی درخواستیں براہ راست اس تھانیدار کو دی جاتی ہیں جن کا گروہ سے معاملہ طے ہوتا ہے، کمپیوٹر سیکشن پر درخواست نہیں دی جاتی تا کہ ریکارڈ پر نہ آ جائے،اسی گروہ نے اگست 2020 کے اوائل میں تھانہ جھاوریاں میں وسیم نامی شخص کو ٹارگٹ کر کے اس سے رقم ہتھیانے کا فیصلہ کیا جس کیلئے اس گروہ نے تھانہ جھاوریاں کے سب انسپکٹر بلال، اور کانسٹیبل امتیاز کو اپنا ہم نوا بنایا اور ایک منصوبہ بندی کے تحت اس گروہ نے 14 اگست کو ایک دن کیلئے جھاوریاں میں مکان کرایہ پر حاصل کیا، اسی روز منصوبہ بندی کے تحت مہوش عرف عائشہ بلوچ نامی لڑکی وسیم کے کلینک پر اپنی ساتھی ثناء شاہ جو

کہ تھانہ ساجد سمیت کئی تھانوں کے علاقوں میں واردات کر چکی ہے کے ہمراہ پہنچی، مہوش عرف عائشہ بلوچ نے چیک اپ کروا کر دوائی حاصل کی، تھوڑی دیر بعد ثناء شاہ کلینک پر آئی اور کہا کہ آپ کی دوائی مہوش کو ری ایکشن کر گئی ہے، جس پر جونہی طبیب وسیم فرضی نام مہوش اصل عائشہ بلوچ کو چیک کرنے کیلئے کمرے میں پہنچا تو ظفر عرف محسن، گلزار اور حق نواز نے ہتھیار تان لیا،بے لباس کر کے عائشہ بلوچ کے ساتھ اس کی ویڈیو بنائی اور 20 ہزار روپے موقعہ پر چھین کر وسیم کو بھجوا دیا، حسب معمول تھوڑی دیر بعد سب انسپکٹر بلال اور کانسٹیبل امتیاز کلینک پر پہنچ گئے اور وسیم کو تھانے بلوایا، مختلف ایام میں 12 لاکھ روپے نقد، 10 لاکھ روپے کا چیک وسیم سے بھتہ کی صورت میں حاصل کر کے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کانسٹیبل امتیاز نے وارننگ دی کہ اگر 3 لاکھ بلال اور 2 لاکھ مجھے (امتیاز) کو نہ دیا تو تمہارا (وسیم) کا انجام اچھا نہ ہو گا۔ جس پر وسیم پریشان ہو گیا اور اس نے موت کو سینے سے لگانے کی ٹھان لی کہ اس کے دوست نور محمد نے پریشان دیکھ کر وسیم سے معاملہ پوچھا تو وسیم نے سب کچھ اپنے دوست کو بتایا جس پر میاں نور محمد نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا، تینوں نے مل کر سب انسپکٹر، کانسٹیبل اور اس گروہ کیخلاف جہاد کرنے کا بیڑا اٹھایا اور فیصلہ کیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا، انہوں نے شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ جو کہ قبل ازیں تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درج ہونے والے

مقدمات جن کے مدعی تنویر اور امجد قریشی تھے کے وکیل رہ چکے تھے رابطہ کر کے تحریری درخواست لکھوائی اور 14 نومبر کو ایس پی انویسٹی گیشن سرگودھا کو اس گروہ کے بارے میں آگاہ کیا، ایس پی انویسٹی گیشن عباس شاہ نے بلا تاخیر ڈی پی او سرگودھا فیصل گلزار سے مشاورت کر کے ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی صدر سرکل اختر وینس کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی پولیس ٹیم تشکیل دے کر اسی وقت جھاوریاں روانہ کی جس نے سب انسپکٹر بلال اور کانسٹیبل امتیاز سے تفتیش کر کے سارا معاملہ اگلوا لیا، جس کی فوری رپورٹ پر ڈی پی او سرگودھا فیصل گلزار کے حکم پر سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز (فرضی نام مہوش اصل نام عائشہ بلوچ، فرضی نام ظفر اصل نام محسن) سمیت 7 افراد کیخلاف تھانہ جھاوریاں میں مقدمہ نمبر 295/20 بجرم 386, 387, 395, 506-II, 55/PPC ت پ و دیگر دفعات کے تحت درج کر کے سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز، محسن عرف ظفر، لڑکی ثناء کو گرفتار کیا گیا، ثناء سے بھتہ کی رقم برآمدگی کر کے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر قید میں بھجوا دیا گیا ہے، سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز، محسن عرف ظفر سرگودھا کی عدالت سے ریمانڈ پر ہیں، جبکہ گلزار، حق نواز اور عائشہ عرف مہوش کی عدالت سے 6 اکتوبر کو عبوری ضمانت خارج ہو چکی ہے، اور ملزمہ عائشہ عرف مہوش کو راہداری ریمانڈ پر قید خانے منتقل کر دیا گیا ہے، مقدمہ کی تفتیش انویسٹی گیشن انسپکٹر ستار گل کر رہے ہیں جس کی نگرانی براہ راست ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا فیصل گلزار، ایس پی انویسٹی گیشن سید عباس شاہ اور ڈی ایس پی شاہ پور غلام جعفر چھینہ کر رہے ہیں، ملزمان کے ورثاء کی جانب سے مدعی پر صلح کیلئے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اورہتھیاروں سے لیس افراد کی طرف سے اسےو ارننگ بھی دی جا چکی ہیں، جس کا الگ سے مقدمہ تھانہ جھاوریاں میں درج ہو چکا ہے، مقدمہ اینٹی ٹیررازم کی عدالت میں چل رہا ہے، دو خواتین ملزمان قید میں ہیں جبکہ باقی ملزمان جن میں سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز و دیگر شامل ہیں، ریمانڈ پر پولیس حراست میں ہیں جن سے بھتہ کی 80 فیصد سے زائد رقم وصول ہو چکی ہے باقی رقم برآمد کرنے کیلئے پولیس کوشش کر رہی ہے، نام نہاد شرفاء جن میں سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں ملزمان کو بچانے اورمدعی کو صلح پر مجبور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں؟ مدعی مقدمہ کی طرف سے کانسٹیبل امتیاز کے بھائی محمد ریاض اور دیگر 3 رشتہ داروں سمیت پانچ افراد کیخلاف درج مقدمہ میں ملزمان نے عبوری ضمانت کرا لی ہے، ایڈیشنل سیشن جج شاہپور سکندر حیات 10 اکتوبر کو اس کی سماعت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں