دل چھو لینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) ایک محترم لکھتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اِس انداز میں کریں کہ وہ عورت کا احترام کریں اور جب بڑے ہوں تو اُنہیں ٹینس کھیلتی لڑکی، بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی ہوئی لڑکی ہیجان خیز نہ دکھائی دے۔وہ شخصی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ

نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عورت کے لباس کی بنا پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی پھیلتی ہے، جو دوسری برائیوں کا سبب بنتی ہے تو دراصل وہ شخصی آزادی کے تصور کو رَد کر رہے ہوتے ہیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شخصی آزادی کو آئینِ پاکستان تحفظ دیتا ہے۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ مغرب میں جو کہتے ہیں کہ بے حیائی بڑی عام ہے پھر کیا وجہ ہے کہ وہاں عورتیں زیادہ محفوظ ہیں؟۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کسی فرد کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا ہے۔محترم سے صرف اِس حد تک متفق ہوں کہ ہمارے بچوں کو ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو تربیت اور کردار سازی کی ضرورت ہے، جو میری نظر میں جانوروں کا معاشرہ بن چکا ہے اور زندگی کا کوئی بھی aspect دیکھ لیں، انتہا کی گراوٹ نظر آئے گی لیکن جب یہ محترم شخصی آزادی کی بات اور بے حیائی کا اِس تناظر میں دفاع کرتے ہوئے جو کچھ کہتے گئے۔وہ یا تو حقائق کے منافی تھا یا اُس میں درست معلومات کا فقدان تھا۔ اُن کی تحریر کی آخری چند سطریں ایک سیکولر کی طرف سے دراصل طعنہ سازی تھی، اُن پر، جن کی تربیت کی کمی کی وجہ سے اُنہیں بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی لڑکی بے حیا اور ہیجان خیز نظر آتی ہے۔ مجھ سے چونکہ اُن کی جان پہچان ہے تو اپنی طرف سے اُنہوں نے یہ مہربانی فرمائی کہ اپنی تحریر میں اُنہوں نے میرا نام لکھنے

سے اجتناب کیا لیکن نام نہ لکھ کر بھی بتا دیا کہ اُن کا شکار کون ہے؟ میں کوشش کروں گا کہ اُن کے کالم میں اُٹھائے گئے نکات پر بات کروں۔سب سے پہلے سب سے اہم بات۔ محترم سے گزارش ہے کہ قرآن حکیم کی سورۃ النور اور سورۃ الاحزاب پڑھ لیں تو اِس بات کا جواب مل جائے گا کہ حیا کے مرد اور عورت کے لئے کیا تقاضے ہیں اور عورت کے لئے ہمارے رب نے گھر کے اندر اور گھر سے باہر لباس کے کیا تقاضے متعین کئے ہیں اور کیوں کئے ہیں؟ بےحیائی کے بارے میں اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں اور اِس بارے میں احادیثِ مبارکہ کیا کہتی ہیں، وہ بھی پڑھ لیں تو پھر شخصی آزادی، بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی لڑکی کے حق میں جو کچھ محترم نے لکھا، اُس کا دوبارہ تجزیہ کر لیں۔ شخصی آزادی کی بات کرتے ہوئے محترم نے آئینِ پاکستان کا بھی حوالہ دیا لیکن میری اُن سے درخواست ہوگی کہ آئینِ پاکستان کو دوبارہ پڑھ لیں، قراردادِ مقاصد اور آئین میں درج پرنسپلز آف پالیسی بھی دیکھ لیں، یہ بھی پڑھ لیں کہ آئین بے حیائی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔آئین اسلام کے نفاذ اور اسلام کے مطابق یہاں رہنے والے مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے لئے اسلامی ماحول کی فراہمی کی ضمانت کیسے دیتا ہے؟ جس شخصی آزادی اور جس پیرائے میں اُس آزادی کی وہ بات کرتے ہیں، وہ آئینِ پاکستان میں کہیں نہیں ملے گی۔ اگربے حیائی اور بے شرمی کی تعریف اپنے قانون میں پڑھنا چاہتے ہیں تووہ بھی پڑھ لیں میرا تو ماننا یہ ہے کہ جب اسلام نے کہہ دیا کہ شرم و حیا، مرد اور عورت دونوں کے لئے لازم ہے اور اِسے ہمارے ایمان کا حصہ بھی بنا دیا اور لباس اور ستر کی حدیں مقرر کر دیں تو بات ختم۔ اوپر دی گئی مغربی دنیا کی مثالیں اور اُنہی کی رپورٹس کو تو صرف محترم کے لئے پیش کیا کہ شاید اُنہی کی بات مان لیں۔ محترم سے گزارش ہے کہ اسلام بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تعلیم سب کو دیتا ہے جبکہ سزا دینے کا حق ریاست کو ہے۔ویسے محترم کیا اس بات کا جواب دیں گے کہ کیا یہ شخصی آزادی اپنے لئے پسند کریں گے؟ ہم میں بہت سے لوگ اپنی بہن بیٹی کو تو ٹی وی چینلز پر اُسی پروڈکٹ کے اشتہار کا حصہ اور اُسی طرح ورزش کرکے دنیا کو دکھانا تو پسند نہیں کریں گے اور اس کی اجازت بھی نہیں دیں گے مگر جب معاملہ دوسرے کی بہن بیٹی کا ہو تو ہمارا اصول اور سوچ کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے۔ معاشرے کو مزید گندگی کی طرف دکھیلنے کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں