ایک مشہور سعودی شہزادے کو امریکہ میں بندر بن بش کے نام سے کیوں جانا جاتا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) شہزادہ بیندر جو 22 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے اور جو امریکی صدر جارج بش کے اتنے قریب تھے کہ انھیں بیندر بن بش بھی کہا جاتا تھا، انھوں نے اس انٹرویو میں فلسطینی قیادت کی تاریخی ناکامیوں کو ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سمجھتے ہیں

نامور صحافی فرینک گارڈنر کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ انھیں ہر حال میں سعودی حمایت حاصل ہے۔شہزادہ بیندر 22 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے اتنے قریب تھے کہ انھیں بیندر بن بش بھی کہا جاتا تھااگرچہ انھوں نے فلسطینی مقاصد کو جائز قرار دیا تاہم انھوں نے اتنے برسوں میں بھی امن معاہدہ نہ کرنے کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی دونوں قیادتوں پر برابر الزام عائد کیا۔انھوں نے کہا کہ جب فلسطینی قیادت آپس میں بھی اتفاق سے نہیں رہ سکتی تو وہ امن معائدہ کیا کریں گے۔ ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غربِ اردن میں اقتدار میں ہے جبکہ فلسطینی اسلامی موومنٹ حماس غزہ میں برسرِاقتدار ہے۔سعودی شاہی خاندان کے قریبی ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ سعودی عرب کے ریاستی ٹی وی پر سعودی بادشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کے بغیر نشر نہیں ہو سکتے تھے۔اہلکار کا کہنا تھا کہ ان الفاظ کو شہزادہ بیندر سے کہلوانا، جو کہ ایک تجربہ کار سفارتکار ہیں اور سعودی اسٹیبلشمنٹ کے ستون مانے جاتے ہیں، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان اپنے عوام کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہو۔شہزادہ بیندر کے الفاظ سننے کے بعد اور خاموشی سے بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کی تائید کر کے لگتا تو ایسا ہی ہے کہ سعودی قیادت اپنی آبادی کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں زیادہ تیزی دکھا رہی ہے۔کئی برسوں سے سعودی عرب کے مختلف کونوں میں خصوصاً دیہی علاقوں میں لوگوں کو یہ عادت ڈالی گئی ہے کہ صرف اسرائیل کو دشمن نہ سمجھا جائے بلکہ تمام یہودیوں کو برا سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں