خان صاحب : ٹک ٹاک پر نہیں پی ٹی آئی پر پابندی لگاؤ جس نے یہ شرمناک کلچر متعارف کروایا ہے ۔۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کو دھرنے کے دنوں کا ان سنا واقعہ یاد دلا دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور اس میں سفارتکاری ہو یا لڑائیاں وہ ایپس اور میڈیا پر ہی لڑی جا رہی ہیں اور آپ نے ٹک ٹاک بند کر کے چین کو انتہائی غلط پیغام دے دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حکومت نے اپنے مخالفین کے کچھ

اکاؤنٹ بند کرنے کے لئے ٹوئیٹر سے رابطہ کیا مگر مثبت جواب نہیں ملا تو انہوں نے ٹوئیٹر ہی بند کر دیا،نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بڑے اختیار کا اس سے چھوٹا استعمال نہیں ہوسکتا۔رہ، رہ کے مجھے خیال آتاہے کہ کیا غیر اخلاقی ویڈیوز کا بہانہ وہی نہیں جو کبھی ٹی وی کی مخالفت کی بنیاد تھا توکیا آپ نے ٹی وی کا راستہ روک لیا تھا۔ اکیسویں صدی کی رفتار بہت تیز ہے اور اس میں آپ اپنی آنکھوں اور کانوں سمیت مختلف سوراخ بند رکھ کردنیا سے الگ نہیں رہ سکتے، اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ میں کسی بھی دوسرے بندے سے یہ توقع کر سکتا ہوں مگر ایک بھرپور زندگی گزارنے والے عمران خان سے نہیں کہ وہ جب وہ ستر برس کے قریب پہنچ رہے ہیں توانہی نوجوانوں کا راستہ روک رہے ہیں جن کو سنہرے خواب دکھا کر وہ اقتدار میں آئے ہیں۔ مجھے ایک کرکٹر سے یہ توقع بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے خلاف مزاحیہ نوعیت کی ہلکی پھلکی تنقید پر اس حد تک خوفزدہ ہوجائے گا کہ اس کھیل میں بلا گھما کے دے مارے گا،، وکٹیں اکھاڑ پھینکے گااورمیدان کو ہی تالے لگوا دے گا کہ یہاں تو وہ ایمپائر کو ساتھ ملا کر بھی نہیں جیت سکتا ۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ٹک ٹاک کی ویڈیوز اتنی بھی بری نہیں تھیں جتنی بری باتیں موجودہ حکمران جماعت کی دھرنا تحریک سے منسوب کی جاتی ہیں اور ٹک ٹاک کا وہ راج مستری پھلو ، مولوی عثمان، جنت مرزا،کنول آفتاب، فضہ منیب اور بہت سارے دوسرے اپنے اخلاق ، کردار، گفتار،ظرف اور مزاح میں جناب فیاض الحسن چوہان، جناب شہباز گل اور جناب شیخ رشید وغیرہ وغیرہ سے بہت بہتر ہیں ا ور بات اخلاق پر ہی آ گئی ہے تو پھر پابندی صرف ٹک ٹاک پر کیوں لگائی گئی ہے، پوری پی ٹی آئی پر لگا دیجئے جس نے حقیقت میں یہ کلچر دیا ہے جس کی بنیاد پر آپ ٹک ٹاک بند کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں