اسے کہتے ہیں سادگی۔۔!! نہ کوئی پلاٹ، اور نہ کوئی بینک بیلنس۔۔۔ پنجاب کے ایک ایم پی اے کے کُل اثاثے جان کر آپ عش عش کر اٹھیں گے

گجرات (ویب ڈیسک ) برس ہا برس سے رائج عدم مساوات اور معاشی نا ہمواریوں سے نہ تو خط غربت سے نیچے بسنے والے متاثر ہوتے ہیں اور نہ خوشحال طبقہ، آجا کے اس کی بھینٹ چڑھتی ہے تو ہے سفید پوش مڈل کلاس۔ہوش سنبھالی تو ابا سرکاری سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ہر

ماہ رزق حلال تنخواہ کی صورت اماں کے ہاتھ پہ رکھتے اور پھر سارا مہینہ انہیں اسی پہ گزارا کرنا ہوتا۔ ساری زندگی والد نے کبھی ٹیوشن نہیں پڑھائی ان کے اصول بہت سخت تھے ہاں کسی نے مجبور کیا تو ان کے بچوں کو پڑھا دیا مگر معاوضہ وصول نہیں کیا۔مجھے یاد ہے جاڑوں کےموسم میں ابا کبھی گجرات جاتے تو ڈرائی فروٹ لانا نہ بھولتے پھر رات کو دستر خوان بچھتا اور ہمیں ناپ تول کر حصہ دے دیا جاتا ۔حیرت ہوتی کہ اماں نے کیسے ایک لگی بندھی رقم میں گھر چلایا ۔ مہمان نوازی تو ان پہ ختم تھی کبھی مستری مزدور کام پہ لگے تو ان کو بھی کھانے میں گوشت ہی دیا ۔تنخواہ سے پائی پائی جوڑ کر امی ابو نے حج کی سعادت حاصل کر لی۔پھر ایک آزمائش در آئی کہ ابو کو برین ٹیومر تشخیص ہو گیا۔ جس کا آپریشن سی ایم ایچ راولپنڈی میں ہوا جس کے اخراجات بھی ابا نے جمع پونجی سے ادا کئے ۔ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت میں اور چھوٹا بھائی زیر تعلیم تھے جبکہ بڑے بھائی عملی زندگی میں سیٹ ہونے کے لئے ہاتھ پاوں مار رہے تھے۔مجھ سے بڑے بھائی حالات سے تنگ آ کر بہتری کی امید لئے یورپ سدھارے مگر شومئئ قسمت 3 سال بعد اچانک بیمار پڑے اور ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے ۔ان کی ڈیڈ باڈی آئی تو ابا کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ سہہ نہ پائے اور کچھ عرصہ بعد ہی وہ بھی چل بسے۔اب حالات کا جبر تھا غموں کی تیز آندھی اور کڑی دھوپ یوں لگا جیسے جلتے صحرا میں ننگے پاوں نکل آیا ہوں۔امی کا ہاتھ بٹانے کو عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔

وہ سارا دن گھر پہ بچوں کو پڑھاتیں اور میں نے امریکن سٹینڈرڈ سکول جوائن کر لیا یاد ہے پہلی تنخواہ مجھے 1100 روپے ملی کچھ عرصہ بعد قائد کیمبرج سکول کی بنیاد رکھی جہاں خون پسینہ ایک کرنے کے بعد ہر ماہ دو ہزار روپے مل جاتے۔ٹیوشن پڑھانا شروع کی پہلی ٹیوشن کے 4500 روپے ملے جو اماں کی ہتھیلی پہ رکھے تو رب کا شکر ادا کرتے ہوئے کہنے لگیں ان پیسوں سے میں گندم خرید لوں گی سال نکل جائے گا۔ہمارے ایک چچا انگلینڈ ہوتے تھے ۔ ہماری ہوش سے پہلے وہ ولایت سے ایک چھوٹا فریج لے آئے تھے جو اپنی طبعی مدت پوری کر چکا تھا اب تو اس کو مرمت کرنے والوں نے جواب دے دیا تھا دروازہ بند ہونے سے انکاری۔۔ ہم رات کو پانی کے برتن بھر بھر فریزر میں رکھ کر رسی سے باندھ دیتے تاکہ صبح تک برف جمی ہو۔انہی حالات سے دوچار 2002 کا الیکشن آ گیا چوہدری نعیم رضا نے بلوایا اور ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کو کہا میں ڈیرے سے بھاگ آیا کہ میں اس ذمہ داری کے لائق کہاں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے جب فارم پر کئے تو اثاثہ جات کا لکھتے ہوئے بہت مزا آیا میرے پاس تو سائیکل تک نہ تھا ۔ نہ کوئی پلاٹ نہ مکان نہ زیور نہ کوئی بینک بیلنس اکلوتا اکاونٹ یو بی ایل میں تھا جس میں چند سو روپے پڑے تھے۔خ

یر الیکشن ہوا اور رب کی نصرت سے میں ایم پی اے منتخب ہوا اس وقت ایم پی اے کی بنیادی تنخواہ دس ہزار روپے تھی جو الاونس ملا کر 25 ہزار روپے بنتی تھی ۔ بطور ایم پی اے پہلی تنخواہ اپنی ماں کے ہاتھ پہ رکھ دی ۔اب سوچا فریج کے بغیر امی کو سخت دقت پیش آتی ہے سو سب سے پہلے فریج خریدی جائے۔تو صاحبو ہم نے ماہانہ قسطوں پر فریج خرید کر ماں جی کو پیش کر دی۔اتنے عرصہ میں ہمارے اثاثوں میں اگر پیسوں کا اضافہ ہوا تو وہ اجلاس کے دنوں کے ٹی اے ڈی اے کے چیک کی صورت تھا یا بعد ازاں سکول سے حاصل ہونے والے پیسے ،کوئی پلاٹ نہ بنگلہ۔ایم پی اے کی شادی کا مرحلہ پیش آ گیا۔اماں نے چند مرلے زمین بیچی اور بیٹے کا بیاہ کر لیا۔ایک آبائی گھر تھا باپ دادا کی نشانی جسے گھر والوں نے یہ سوچ کر گرا دیا کہ ساڈا تے منڈا ایم پی اے بن گیا ۔ان کو خوش فہمی تھی کہ شاید اب دھن برسے گا مگر ہم نکمے ہی رہے۔جو کام کی زمین تھی ساری فروخت کر کے مکان پہ جھونک دی مکان بھی مکمل نہ ہوا اور زمین بھی گئی کسی چاہنے والے کا گذر محلہ کسانہ سے ہو تو ڈھانچے کی صورت کھڑا ایک مکان ایک داستان لئے منتظر ہو گا۔تو صاحبو !ایک سابق ایم پی اے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں