جاؤ میرا گھوڑا لے جاؤ مگر اپنا طریقہ واردات کسی کو نہ بتانا ورنہ ۔۔۔۔ پرانے وقتوں میں ایک معزز شخص نے ایک لٹیرے کو یہ نصیحت کیوں کی تھی ؟ ایک سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کوئی صاحب ثروت، رحمدل اور جواں مرد کو سرِراہ خاک نشیں معذور نے مدد کی صدا دی ، وہ گھوڑے سے اُترا، استفسار پر لاچار شخص نے بلکتے ہوئے اُسی طرف جانے کی استدعا کی جس سمت گھڑ سوار جا رہا تھا۔ جواں سال ورزشی جسم کے مالک نے اسے

پلک جھپکتے میں زمین سے اُٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا۔ خود سوار ہونے کیلئے رکاب میں پائوں رکھنا ہی چاہتا تھاکہ چشم زدن میں سوار نے گھوڑے کی باگیں کھینچیں ایڑھ لگائی اور یہ جا،وہ جا۔ گھوڑے کا مالک پریشان تو ہوا ہو گا مگر بدحواس نہیں تاہم گلا پھاڑ کر بولا۔ ’’سنو، گھوڑا تیرا ہوا ، ایک بات سُن لو۔‘‘نوسر باز راہزن جو اُس وقت گھوڑا زن تھا ، رکا، گردن گھما کے اسکی طرف متوجہ ہوا۔ مردِ دانا نے کہا ۔” جائو گھوڑا لے جائو مگر کسی کو مت بتانا، تم نے کس طرح دھوکے سے گھوڑا اڑایا ہے۔ سننے والے کبھی معذور و بے بس راہگیروں پر ترس نہیں کھائیں گے”۔ مردِ ناداں کے نہاں خانے میں کہیں انسانیت کی رمق تھی جو کلبلائی اُس نے گھوڑا واپس کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں