کچھ طیاروں کے آگے یہ لمبی سٹک دراصل کیوں نصب ہوتی ہے ؟ یہ کیا کام کرتی ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (شیر سلطان ملک ) آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ ہوائی جہازوں اور طیاروں کی عین ناک پر یعنی کاک پٹ سے آگے طیارے کے آخری سرے پر ایک اسٹک لگی ہوتی ہے ، یہ سٹک یا ٹیوب وہاں کیوں نصب ہوتی ہے ؟ آئیےآپ کو بتائیں ۔۔۔۔ قارئین کسی بھی ہوائی جہاز کے

آگے لگی اس اسٹک کو پٹاٹ ٹیوب pitot tube کہا جاتا ہے ۔ اسکے اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اسے 18 ویں صدی کے اوائل میں فرانسیسی انجینئر ہینری پٹاٹ نے ایجاد کیا تھا ۔اسی مناسبت سے اسکا نام پٹاٹ ٹیوب پڑا۔اس ٹیوب کو طیارے پر کس مقصد سے لگایا جاتا ہے ؟ یہ ٹیوب دراصل گیس اور مائع جات کے بہاؤ کو جانچنے اور ناپنے والا آلہ ہے ۔طیارہ انڈسٹری کے علاوہ اس آلے کا استعمال کئی صنعتی پلانٹس میں بھی کیا جاتا ہے ۔کسی طیارے میں اس ٹیوب کا پٹاٹ سٹیٹک سسٹم کے نام سے ایک علیحدہ سسٹم ہوتا ہے جو طیاروں کی رفتار اور دیگر اہم چیزیں ماپنے کا کام کرتا ہے ۔ اس ٹیوب کے آخری سرے پر ایک سوراخ ہوتا ہے جو پرواز کے دوران طیارے سے ٹکرانے والی ہوا کے پریشر کو بھی ناپتا ہے ۔ اس آلے کی مدد سے ہی طیارے کی رفتار کو جانچنے میں مدد ملتی ہے ۔یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ طیارے کی رفتار کا پائلٹ کو معلوم ہونا انتہائی ضرور ی ہوتا ہے جو کچھ ممالک میں KNOTS اور کچھ میں KM/hکے حساب سے ناپی جاتی ہے ۔کسی بھی طیارے کی اسپیڈ بتانے والے آلہ یعنی اسپیڈو میٹر کا درست حالت میں ہونا انتہائی ضروری ہوتا کیونکہ اسی سے پائلٹ کو معلوم پڑتا ہے کہ اس نے طیارے کو کس اسپیڈ سے اڑانا ہے ۔ کسی بھی طیارے کو انتہائی سست رفتاری یا حد سے زیادہ تیز رفتاری سے اڑانا حادثے کا باعث بن سکتا ہے ۔ 2009 میں حادثے کا شکار ہونے والے ائیر فرانس کے فلائٹ نمبر 447 کے مسافر طیارے کی تباہی کا باعث یہ تھا کہ اسکی پٹاٹ ٹیوب پر برف جم گئی تھی اور طیارے کی رفتار ظاہر کرنے والے میٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا ،پائلٹس کو معلوم ہی نہ ہو پایا کہ وہ کس رفتار سے طیارے کو اڑا رہے ہیں ، چنانچہ یہ طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا ۔ اب آپ کو معلوم ہو چکا ہو گا کہ یہ پٹاٹ ٹیوب کسی طیارے کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے . ۔ اور آخر میں یہ بھی جان لیجیے کہ دور جدید میں طیاروں کے آگے بڑی پٹاٹ ٹیوب کی بجائے انکے نچلے حصے پر چھوٹی پٹاٹ ٹیوبز لگائی جاتی ہیں ، جو زیادہ موثر اور محفوظ ہوتی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں