پاکستان کا ایسا کرارا جواب کہ جان کر آپ کا سر بھی فخر سے بلند ہو جائے گا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت لڑنے کے لیے تیار ہونے کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی ‘دفاعی کمزوریوں’ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔بھارت کے چیف آف ایئراسٹاف ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھادوریا نے

رواں ہفتے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت دو محاذوں پر جنگ کے لیے تیار تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تیار ہیں اور چین کا سامنے کرنے کے لیے بہترین پوزیشن پر ہیں اور ان کے پاس ہم پر برتری حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے’۔بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بھارت دو محاذون پر چین اور پاکستان سے نبرد آزما ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔بھارتی ایئرچیف نے کہا تھا کہ ‘ہم باخبر ہیں کہ وہ دونوں قریبی تعاون کر رہے ہیں اور سنجیدہ خطرہ موجود ہے لیکن اب تک کوئی ایسا اشارہ نہیں ہے کہ وہ دونوں محاذ پر جنگ کے لیے تیاری کررہے ہوں’۔پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات آر ایس ایس-بی جے پی کے انتہا پسند نظریے اور بالادستی کی سوچ سے مغلوب ذہنیت کا عکس ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بھارت کے سینیئر سیاسی اور عسکری رہنما خطے سمیت خود بھارت کے امن کو داو پر لگاتےہوئے پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات جاری کرہے ہیں’۔زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی چیف کو اس طرح کی شیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہے’۔بھارتی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے رواں برس چین کے ساتھ شمالی سرحد پر کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت کا دفاع

‘پہلے بالاکوٹ کے ناکام اقدام اور حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوا’۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت اپنے کسی بھی مذموم حرکت کے خلاف پاکستانی قوم کے جذبے اور مسلح افواج کی تیاریوں کو نظر انداز نہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جنوبی ایشیا کے امن اور خوش حالی کی خاطر بھارت تیسری صدی کے چانکیہ بیانیے کو چھوڑ دے اور اکیسویں صدی کے خطے کے امن اور ترقی کے ماڈل کو اپنائے’۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیتےہوئے چین سے جاری کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔جنرل بپن راوت نے یو ایس-انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم کے زیراہتمام سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کی افواج سے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر ‘مشترکہ کارروائی’ کا خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ ‘ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان پراکسی وار کرنے کے لیے تیار ہوگا لیکن ہماری شمالی سرحد پر کوئی خطرہ بڑھا تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہمیں مغربی سرحد پر مشکلات پیدا کرے گا’۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو ‘بھاری نقصان کا سامنا’ کرنا پڑے گا اگر اس نے کسی قسم کا ‘مس ایڈونچر’ کیا۔پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے بیان کی مذمت کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات دینےاور اپنے ہسمائیوں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔دفتر خارجہ نے ان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی سینئر عسکری قیادت کی جانب سے ‘اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات’ سے بی جے پی-آر ایس ایس کا رویہ آشکار ہورہا ہے، جو ‘خطرناک انتہا پسند نظریات سے بھرپور، بالادستی کے ارادے اور پاکستان کے خلاف پائے جانے والے جنون کا مجموعہ ہے’ اور یہ نظریہ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرگیا ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت ہر جغرافیائی سیاسی یا عسکری دھچکے پر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے بے بنیاد اور اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دیتی ہے۔دفترخارجہ نے چین کے ساتھ کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘بھارت کی دفاعی صلاحیت دنیا کے سامنے شرم ناک حد تک بے نقاب ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا’۔بھارتی جنرل کے بیان پر ردعمل میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘متشدد بیانات سے بھارت کو ذلت کے سوا کچھ نہیں ملا، بھارتی قیادت کو پاکستان مخالف رائے عامہ ہموار کرنے کے بجائے تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل نکالنے پر توجہ دینی چاہیے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں