سی سی پی او لاہور کا خفیہ اداروں کو مراسلہ !پولیس ملازمین کا کونسا ڈیٹا طلب کر لیا ؟پورے محکمے میں ہلچل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز سمیت دیگرپولیس ملازمین سے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کرلی گئیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے پولیس ملازمین کےاثاثوں کی تفصیلات کیلئے خفیہ اداروں کو مراسلہ ارسال کیا ہے جو اسپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو کو جاری کیا گیا

ہے۔سی سی پی او کے مراسلے میں پہلے مرحلے میں ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اورانچارج انویسٹی گیشنزکا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ فیلڈ آفیسرز کی پوسٹنگ کیلئے اثاثوں کے ڈیکلریشن کا مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔مراسلے کے متن میں کہا گیا ہےکہ متعلقہ افسران کی تنخواہ کے علاوہ دیگر کاروبار کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کی جائیں۔سی سی پی او لاہور کا کہنا ہےکہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ تحقیقات ہوں گی اور آئندہ کوئی بھی پولیس افسر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائے بغیر فیلڈ میں تعینات نہیں ہوگا۔گزشتہ روز سی سی پی او لاہور کی جانب سے بڑا فیصلہ سامنے آیا تھا جس کے تحت پولیس میں بھی آرمڈ فورسز کی طرز پر کورٹ مارشل پر غور شروع کر دیا گیا تھا۔ سی سی پی او لاہور نے پالیسنگ آف پولیس کے لئے بڑا فیصلہ کیا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے آئی جی پنجاب کو پولیس میں کورٹ مارشل کے لئے درخواست کر دی۔جس میں استدعا کی گئی ہے کہ آرمڈ فورسز میں کورٹ مارشل کی طرز پر پولیس میں بھی سزاء جزاء کا نظام متعارف کروایا جائے، خط کے متن میں کہا گیا کہ پولیس میں بہترین ڈسپلن اور موثر سروس ڈلیوری کیلئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہوں گے۔پچھلے پانچوں سالوں کے ریکارڈ کے مطابق 25 سے 30 فیصد سے زائد نفری کو سزائیں دی گئیں۔پولیس میں سزاؤں کے باوجود جوڈیشری، میڈیا، این جی اوز اور عوام الناس پولیس کے رویوں کی شکایات کرتے دیکھائی دیتے ہیں،موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دینے سے کوئی بہتری نہیں آرہی،پولیس کورٹ مارشل متعارف کروانے کا مقصد غفلت اور کوتاہی پر کوئی اہلکار و افسر دوبارہ نوکری پر کوئی بحال نہ ہو سکے،مزید کہا گیا کہ موجودہ قوانین کے تحت سخت سے سخت سزاؤں کے باوجود اہلکار و افسر محکمے کا حصہ ہیں، پولیس میں نوکری سے نکالے جانے پر اہلکار دوبارہ سول کورٹس، سروس ٹربیونل و دیگر طریقوں سے واپس آجاتے ہیں۔انصاف کی فراہمی اور سسٹم میں شفافیت کےلئے موجودہ قوانین میں کورٹ مارشل طرز کی ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔پولیس کورٹ مارشل کو جلد از جلد نافذالعمل کیا جائے۔واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تین ماہ کے دوران لاہور کو بدل کر رکھ دیں گے۔حال ہی میں سی سی پی او لاہور نے ناقص تفتیش پر ایک اور تھانیدار گرفتارسی سی پی او لاہور نے ناقص تفتیش اور شواہد مسخ کرنے پر ایک اور تھانیدار کو گرفتار کروایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں