افغان باقی کہسار باقی ، الحکم للہ بالملک للہ ۔۔۔۔امریکی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلاء کا اعلان کر دیا گیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان سے تمام امریکی فوجی کرسمس تک اپنے گھر واپس لوٹ آئیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان سے تمام امریکی فوجی کرسمس تک اپنے گھر واپس لوٹ

آئیں۔ اس سے چند ہی گھنٹے قبل ان کے قومی سلامتی کے مشیر نے آئندہ برس کے اوائل تک افغانستان میں امریکی افواج کم کرکے 2500 تک کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ٹوئٹر پر لکھا ”کرسمس تک افغانستان میں خدمت کرنے والے ہمارے بہادر مردو خواتین کی تعداد بہت تھوڑی رہ جانی چاہیے۔”صدرٹرمپ کا یہ اعلان امریکی صدارتی انتخابات سے تقریباً ایک ماہ قبل سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ‘لامتناہی امریکی لڑائیاں ‘ ختم کرنے کے لیے اپنے وعدے پر عمل پیرا ہیں۔ یہ بات بہر حال واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ نے ٹوئٹ کرکے کوئی حکم دیا ہے یا وہ محض اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں دوبارہ میدان میں ہیں۔ وہ افغانستان میں اس طویل ترین لڑائی کے خاتمے کے لیے اقدامات کا اظہار کرتے رہے ہیں کیوں کہ یہ ان کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے، حالانکہ اس وقت ہزاروں امریکی فوجی عراق، شام او رافغانستان میں موجود ہیں۔اس برس فروری میں قطر میں طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے تاریخی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ اگر افغانی بدامنی ختم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں تومئی 2021 تک تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے باہر نکل آئیں گی۔ اس معاہد ے کے بعد لڑائی بند کرنے اور اقتدار میں شراکت کے فارمولے پر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کا اعلان کیا تھا۔افغانستان میں لڑائی بندی اور قیام امن کے سلسلے میں امریکی انتظامات کے تحت گزشتہ ماہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانیوں اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا تاہم بعض بنیادی امور اور بالخصوص بات چیت کے ضابطہ اخلاق پر اتفاق رائے نہیں ہونے کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔دوحہ مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کی ایک وجہ طالبان کا یہ اصرار بھی ہے کہ مستقبل کی حکومت میں تمام معاملات سنی فقہ کے مطابق طے ہوں گے۔ اس صورت میں افغانستان کی شیعہ برادری اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خدشہ تھا۔صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ سے چند گھنٹے قبل ہی امریکا کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن نے کہا تھا کہ امریکا اگلے سال کے اوائل میں افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد 5000 سے بھی کم کردے گا۔او برائن نے لاس ویگاس میں نیواڈا یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا” بالآخر افغان خود ہی ایک معاہدے، ایک امن معاہدے، کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کی رفتار سست ہے، اس میں مشکل سے پیش رفت ہورہی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ضروری قدم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکیوں کو اپنے گھر واپس آجانے کی ضرورت ہے۔“قومی سلامتی کونسل اور وائٹ ہاوس نے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں