بلی تھیلے سے باہر : سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اچانک کس کے اختیارات استعمال کرنا شروع کر دیے ؟ دنگ کر ڈالنے والی تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک)پولیس کے ایک اعلی عہدے دار نے اپنےا ختیارات کاناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے آئی جی پنجاب کے اختیارات کا استعمال شروع کر دیا، عمر شیخ نے اختیار ملنے سے پہلے ہی ایس ڈی پی اوز کیخلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔سی سی پی او نے جلد بازی کا

مظاہرہ کرتے ہوئے 7 ایس ڈی پی اوز کے خلاف کارروائی کی۔ذرائع کے مطابق سی سی پی او عمر شیخ نے آئی جی پنجاب سے ڈی ایس پیز کے تبادلے کرنے کے اختیارات مانگے تھے، لیکن آئی جی کی جانب سے تاحال سی سی پی او کو اختیارات نہیں سونپے گئے، لیکن عمر شیخ نے خود ساختہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈی ایس پیز کو خود ہی کلوز کرنا شروع کردیا چند روز میں ہی عمر شیخ نے اب تک 7 ایس ڈی پی اوز کے خلاف کارروائی کی، زبانی احکامات پر 3 ڈی ایس پیز کو اب تک اپنا پی ایس او لگائے چکے ہیں،جن ڈی ایس پیز کیخلاف کارروائیاں کی گئی ہیں،ان میں ایس ڈی پی باغبانپورہ،سمن آباد،ماڈل ٹاؤن اور شاہدرہ شامل ہیں، اسی طرح اسلام پورہ، ماڈل ٹائون، شمالی چھانی کے ایس ڈی پی اوز کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، قانونی طور پر ایس ڈی پی اوز کے تبادلے آئی جی پنجاب کا صوابدیدی اختیار ہے۔پولیس کا محکمہ اگرچہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور قانون کی پاسداری کے لئے بنایاگیا ہے مگر باقی محکموں کی طرح اس میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔سی سی پی او کا ایسا اقدام اٹھانا ان کی کام پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ایک اور خبر کے مطابق سی سی پی او کا کہنا ہے کہ پولیس میں بھی آرمڈ فورسز کی طرز پر کورٹ مارشل ہونا چاہیے، موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دینے سے کوئی بہتری نہیں آرہی، انصاف کی فراہمی کے لیے کورٹ مارشل طرز کی ترامیم وقت کی ضرورت ہے۔سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے یہ تجویز آئی جی پنجاب کو ایک درخواست میں دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ پولیس میں ڈسپلن اور سروس ڈلیوری کیلئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 5 برسوں میں 25 سے 30 فیصد سے زائد نفری کو سزائیں دی گئیں مگر ان سزاؤں کے باوجود عدلیہ، میڈیا اور عوام شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔عمر شیخ کے مطابق پولیس کورٹ مارشل کا مقصدیہ ہےکہ کوئی سزایافتہ اہلکار یا افسر دوبارہ نوکری پر بحال نہ ہوسکے۔ان کامزیدکہنا ہےکہ موجودہ قوانین کے تحت نوکری سے نکالے جانے پر اہلکار عدالتوں یادیگر طریقوں سے واپس آ جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں