پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل 1950 میں پاکستان کے مستقبل بارے کیا پیشگوئی کرکے بھارت چلے گئے تھے اور وہاں انکی زندگی کا انجام کیا ہوا تھا ؟ حیران کر دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں عموماً مذہبی جنونیت میں اضافے اور پھیلاؤ کا ذمہ دار سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے نظام حکومت اور اُس کے بعد رائج ہونے والی ملائیت کی طاقت کو قرار دیا جاتا ہے۔لیکن تاریخ کے ایک اہم کردار، جوگندر ناتھ منڈل، نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو

لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی ایکسٹریم ازم کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا۔ نامور صحافی ثقلین امام کی بی بی سی کے لیے ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی دعوت انھیں دی تھی۔ اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر قانون بھی تھے۔جوگندر ناتھ منڈل کا تعلق بنگال کی دلت برادری سے تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے بنگال کی سیاست میں صرف برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی اہم معاملہ نہیں تھا بلکہ بعض لوگوں کی نظر میں اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ بنگال میں زمینداری نظام کی چکی میں پسنے والے کسان تھے جن میں زیادہ بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد دلت تھے، جنھیں ’شودر‘ بھی کہا جاتا تھا لیکن انگریزوں کے زمانے میں انھیں ’شیڈول کاسٹ‘ کہا جانے لگا تھا۔منڈل بنگال کے ایک قصبے باقر گنج میں کسانوں کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد کی خواہش تھی کہ گھر میں کچھ ہو یا نہ ہو، اُن کا بیٹا تعلیم ضرور حاصل کرے۔منڈل کی تعلیم کے لیے مالی مدد ان کے ایک بے اولاد چچا نے فراہم کی۔ مقامی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بنگال کے علاقے باڑی سال میں واقع بہترین تعلیمی ادارے برج موہن کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ باڑی سال مشرقی بنگال جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا، کا کا ایک

شہر تھا۔انھوں نے تعلیم کے بعد باڑی سال کی میونسپل سرگرمیوں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور نچلے طبقے کی حیثیت کو بہتر کروانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اگرچہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے مگر انھوں نے محسوس کیا تھا کہ اونچی ذات کے ہندوؤں میں رہتے ہوئے شودروں کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں اور اسی لیے پاکستان اُن کے لیے ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔جب انھوں نے جناح کی یقین دہانیوں کے بعد پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا تو انھیں اُن کے ساتھی اور انڈیا کے سب سے بڑے دلت رہنما ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیدکر نے خبردار کیا تھا۔ ڈاکٹر امبیدکر کا اپنا تعلق مہاراشٹر سے تھا۔تاہم قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جس طرح ڈاکٹر امبیدکر انڈیا کے وزیرِ قانون بنے، اُسی طرح جوگندر ناتھ منڈل بھی پاکستان کے وزیرِ قانون بنے۔ اور پھر دونوں کو چند برسوں کے بعد اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔منڈل آٹھ اکتوبر 1950 کو مستعفی ہوئے، جبکہ امبیدکر نے 27 ستمبر 1951 کو استعفیٰ دیا۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ منڈل مایوس ہو کر مستعفی ہوئے اور ملک کا آئین بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکے جبکہ امبیدکر نے انڈیا کا آئین جنوری سنہ 1950 میں مکمل کر کے اپنا تاریخی کردار بہرحال ادا کیا۔آئین بننے کے بعد امبیدکر نے ہندوؤں کے وراثت کے قانون میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر جائیداد میں حق کے لیے قانون سازی کی کوشش کی، جس میں ناکامی پر استعفیٰ دے دیا۔منڈل وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ میں سنہ 1950 تک شامل

رہے۔ انھوں نے اس دوران مشرقی پاکستان میں دلتوں پر ہونے والے مظالم کی وزیر اعظم سے کئی بار شکایت کی۔پھر انھوں نے اکتوبر میں استعفیٰ دیا جس میں انھوں نے اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اُن اسباب کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ان کی یہ رائے قائم ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ بنگال میں سینکڑوں دلتوں کی، فوج، پولیس اور مسلم لیگی کارکنوں کے ہاتھوں اموات کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔منڈل کے بار بار شکایت کرنے پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے منڈل سے تفصیلات طلب کیں۔ لیکن اب وقت بہت گزر چکا تھا۔ منڈل نے تفصیلات اپنے استعفے میں پیش کیں۔ اس لیے ان کے خط یا استعفے میں ایک ترتیب کے ساتھ پولیس اور مقامی مسلمانوں کی جانب سے دلتوں (شیڈول کاسٹ) پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی تفصیلات لکھی ہوئی تھیں۔منڈل نے کھلنا اور باڑی سال میں جو کہ ان کا انتخابی حلقہ تھا وہاں ہونے والے مارپیٹ کے واقعات کی وہی تفصیل لکھی جو کہ مقامی دلتوں نے انھیں لکھ بھیجی تھی۔ انھوں نے ایک گاؤں میں فصلوں کی کٹائی پر ہونے والے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں تصادم کے دوران ’ایک مسلمان جان سے گیا تھا جس کے بدلے میں مقامی پولیس اور ایک مسلم تنظیم ’انصار‘ کی مدد سے نامہ شودرا دلتوں کے گاؤں کے گاؤں لوٹے گئے۔‘دلتوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی فہرست کچھ اسی طرح کی تھی جو کہ تقسیم کے وقت دیکھی گئی تھی

اور اب اس میں دلتوں کے ساتھ مظالم کے واقعات کا بھی ذکر تھا: ’بالجبر مسلمان بنانا، عورتوں کے ساتھ ظلم ، لوٹ مار، بھتہ وصول کرنا، گائے کا ذبیح ، اور دلتوں کی عبادت گاہوں سے ان کے مذہبی تبرکات کی توہین کرنا، وغیرہ۔‘جوگندر ناتھ منڈل کا استعفیٰ نئی پاکستانی ریاست کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی سکینڈل بن گیا تھا۔ خاص کر جب منڈل کلکتہ منتقل ہو گئے تو انھوں نے مزید سخت الزامات عائد کیے۔غزل آصف اپنے مقالے میں پاکستان کی نیشنل آرکائیوز سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ منڈل کے بیانات کو ایک ’دھوکہ‘ کہتے ہوئے انھیں ’جھوٹا، غدار اور بزدل‘ کہا گیا۔اُن کے بیٹے جگیدش چندرا منڈل نے پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کو بتایا تھا کہ جب ان کے والد کراچی میں رہتے تھے تو وزیر ہوتے ہوئے بھی انھیں ہر معاملے سے الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ ’انھوں نے پاکستان میں جناح پر بھروسہ کرتے ہوئے دلتوں کے بہتر مستقبل کی امید پر انڈیا میں اپنا جو کچھ بھی تھا، سب کچھ چھوڑ دیا تھا، لیکن جناح کے بعد اسی پاکستان میں انھیں سیاسی اچھوت بنا دیا گیا تھا۔‘پاکستان سے سنہ 1950 میں انڈیا منتقل ہونے کے بعد سے سنہ 1968 کے عرصے کے دوران انھوں نے اپنا زیادہ وقت کلکتہ کے اس دور کے ایک پسماندہ مضافاتی علاقے میں بسر کیا۔ یہ اس وقت کی معروف رابندرا سروبار یا ڈھاکوریا جھیل کے دلدلی علاقے تھے۔ وہاں کی زمین خشک کر لینے کے بعد اب وہاں امیر لوگوں کا ایک رہائشی علاقہ تعمیر ہو چکا ہے۔ پہلے وہاں دلتوں کی کچی آبادیاں ہوتی تھیں جہاں منڈل نے رہائش اختیار کی تھی۔

منڈل نے اس علاقے میں انتہائی غربت کے دن گزارے۔ اس علاقے کے لوگ بہت ہی بُری حالت میں رہتے تھے۔ ان کی جھگی کے سامنے ہر وقت دلتوں کا تانتا بندھا رہتا تھا تاکہ وہ ان کہ مسائل حل کروا سکیں۔ان میں زیادہ تر مسائل تو نوکریوں اور ملازمتوں سے متعلق تھے۔ لیکن وہ دلت جنھیں مشرقی پاکستان میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، وہ مغربی بنگال ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے، ان کی آبادکاری کے سنگین مسائل تھے۔ یہ لوگ لُٹے پٹے کلکتہ پہنچے تھے۔ ان مہاجرین کو انڈین حکومت نے وہ سہولتیں نہیں دی تھیں جو پاکستانی پنجاب سے آنے والوں کو نہرو حکومت نے دی تھیں۔جوگندر ناتھ منڈل کا انتقال سنہ 1968 میں ہوا تھا۔ بظاہر انھیں اُس وقت دل کا دورہ پڑا تھا جب وہ ایک کشتی میں سوار دریا عبور کر رہے تھے۔ اس وقت سوائے ملاح کے اور کوئی گواہ نہ تھا۔ ان کی نعش کا معائنہ بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ بات ان کے بیٹے جگدیش چندر منڈل نے اپنی تصنیف میں بیان کی ہے۔ ان کے بیٹے نے کئی برس بعد اپنے والد کی تحریروں پر مشتمل سات جلدیں شائع کیں تھیں۔پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک دوپہر سفر پر جانے سے پہلے کھانا کھایا اور وہ بالکل صحت مند تھے۔ شام کو انھوں نے ایک سیاسی جلسے میں شرکت کرنا تھی، ان کے چھوٹے بیٹے نے اصرار کیا کہ وہ نہ جائیں۔ منڈل کو بتایا گیا تھا کہ ان کے نہ جانے سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، بہرحال منڈل کی موت کہ اصل وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اور شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔لیکن دوسری جانب، پروفیسر سین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حتمی شواہد کے ذریعے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی موت کیسے ہوئی ’لیکن جوگندر ناتھ منڈل کے بیٹے جگدیش کہتے ہیں کہ ان کے والد کی باڈی کی حالت ایسی تھی کہ جس سے نظر آتا تھا کہ وہ قدرتی موت نہیں مرے۔‘اسی لیے اُس زمانے کے سیاسی حالات اور ان کی میت کی حالات کے بارے میں بیانات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے پروفیسر سین اسے ’پُر اسرار موت‘ قرار دیتے ہوئے اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ ’انھیں کچھ کھانے میں دیا گیا تھا۔‘وہ کہتے ہیں ’ان کی موت پُراسرار حالت میں ہوئی جس سے شک یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو زندگی سے محروم کیا گیا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں