بریکنگ نیوز: 40سال میں پہلی مرتبہ روزویلٹ ہوٹل کو بند کر دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکہ میں موجود پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کو بند کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق روزویلٹ ہوٹل کو چالیس سال میں پہلی مرتبہ بند کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے روزویلٹ ہوٹل کے آپریشنز کو معطل کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے امریکہ کے شہر مین ہیٹن میں

موجود پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے آپریشنز بند کردیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق روزویلٹ ہوٹل کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل 31 اکتوبر سے مکمل طور پر بند ہونے جا رہا ہے۔ ویب سائٹ میں شیئر پیغام میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ہوٹل کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیغام کے مطابق تقریباَ سو سال اپنے مہمانوں کی خدمت کرنے کے بعد دی گرینڈ ڈیم آف نیویارک، دی روزویلٹ ہوٹل کے دروازے 31 اکتوبر 2020 کو ہمیشہ کے لیے بند ہونے جا رہے ہیں۔یہ پیغام روزویلٹ ہوٹل کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ روزویلٹ ہوٹل پی آئی اے کی ملکیت ہے۔ سنہ 1979 میں پی آئی اے نے سعودی عرب کے شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر اس کو لیز پر حاصل کر لیا۔ اس لیز کی شرائط میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ بیس برس بعد اگر پی آئی اے چاہے تو اس ہوٹل کی عمارت بھی خرید سکتی ہے۔سنہ 1999 میں پی آئی اے نے اس شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوٹل کی عمارت کو تین کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔ پی آئی اے کو ہوٹل کی عمارت خریدنے سے پہلے ہوٹل کے اسوقت کے مالک پال ملسٹین کے ساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔ سنہ 2007 میں پی آئی اے نے ہوٹل کی مرمت اور از سر نو تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جس پر چھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کا خرچہ آیا۔اس کے بعد پی آئی اے نے اپنے مالی خصاروں کو پورا کرنے کے ہوٹل کو بیچنے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے مرکز مین ہیٹن کی 45ویں اور 46 ویں سٹریٹ کے درمیان واقع ہے جو نیویارک کے گرینڈ سنٹرل سٹیشن سے صرف ایک بلاک دور ہے۔ یہاں سے ٹائمز سکوائر اور براڈ وے جانے میں صرف پانچ منٹ لگتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں