بریکنگ نیوز:ریاست مدینہ کی جانب شاندار قدم ، استاد کے احترام کے لئے تاریخی اقدام، پولیس کو اساتذہ کو سلیوٹ کرنے کا حکم

حیدرآباد (ویب ڈیسک) استاد ایک قوم کی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور خصوصاً اسلامی معاشرے میں استاد کو بہت عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے۔ حیدر آباد کے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل نے اساتذہ کے احترام کے لیے انتہائی تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی نے حکم جاری کرتے

ہوئے کہا کہ سپاہی سے انسپکٹر رینک تک کے پولیس اہلکار اساتذہ کو سلیوٹ پیش کریں گے۔ ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا کہ قوم کا مستقبل بنانے میں اساتذہ کا بڑا کردار ہوتا ہے، اگر کوئی استاد تھانے آئے تو سب سے پہلے سلیوٹ کیا جائے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ٹریفک پولیس کو کہا گیا تھا کہ پہلے سلام پھر کلام کی پالیسی‘ پر عمل کیا جائے، اس پر عملدرآمد شروع ہو گیاہے۔وارڈنز کی جانب سے شہریوں کو سلیوٹ کرنے کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نوازشریف نے کہاہے کہ مجھے کیا ضرورت تھی اقامہ کی ، اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا ، بشمول ساری فیملی تو مجھے کسی جگہ کا اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی ، وہاں رہنے کیلئے اقامہ لازمی تھا ، سعودی عرب جانے کے فوری بعد بنوایا ، اس کے بعد پاکستان میں مجھے سات سال نہیں آنے دیا گیا ۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں