’’آپ میری بات لکھ لیں ارطغرل آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف کا محسن اور عمران خان کا دشمن ثابت ہو گا‘‘ مگر کیسے ؟ جاوید چوہدری کی تازہ ترین تحریر میں حیران کن دعویٰ کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) ہم 17 ستمبر کو صغوط میں ارطغرل غازی کے مزار پر پہنچے تھے‘ مزار پر گارڈز تبدیل ہو رہے تھے‘ قائی قبیلے کی یونیفارم میں چار خوب صورت فوجی جوان تلواروں اور کلہاڑوں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے آئے اور پرانے جوان ترکی زبان میں لیفٹ رائیٹ‘ لیفٹ رائیٹ کرتے ہوئے احاطے سے باہر نکل گئے‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے گروپ میں شامل نوجوانوں نے بھی ارطغرل کی یونیفارم پہن لی اور یہ بھی تلواریں اور کلہاڑے اٹھا کر تصویریں بنوانے لگے جب کہ حکیم بابر نے ارطغرل کے مزار پر کھڑے ہو کر معجون ارطغرل لانچ کر دی۔ہمارا اگلا ارطغرل گروپ ان شاء اللہ 18 نومبر کو ترکی جائے گا لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں‘ ہمارا موضوع نواز شریف ہیں‘ مزار کے سامنے کھڑے ہو کر ہمارے گروپ کے ایک سینئر رکن نے دل چسپ تبصرہ کیا‘ ان کا کہنا تھا ’’ارطغرل آٹھ سو سال بعد میاں نواز شریف کا محسن ثابت ہو رہا ہے‘‘ گروپ کے باقی لوگ ہنس پڑے لیکن میں نے سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں‘‘ وہ مسکرائے‘ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر ارطغرل کے بھائی دندر بے کی علامتی قبر کے پاس لے گئے اور سرگوشی میں کہا ’’آپ میری بات لکھ لیں ارطغرل آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف کا محسن اور عمران خان کا دشمن ثابت ہو گا‘‘ مجھے ان کا بالائی خانہ ذرا سا ڈھیلا محسوس ہوا۔کہاں ارطغرل اور کہاں نواز شریف اور کہاں عمران خان‘ کہانی جم نہیں رہی تھی‘ وہ تھوڑی دیر رکے اور پھر بولے ’’سعودی عرب ترکی کو پسند نہیں کرتا‘ عثمانیوں نے 1517 میں حجاز پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ چار سو سال حجاز کو گورنر کے ذریعے چلاتے رہے‘ سعودی قبائل نے1924 میں ترکوں سے 22 سال لڑائی کے بعد آزادی حاصل کی اور اس جنگ میں ان کے ہزاروںلوگ جان سے گئے‘ سعودی اور ترک آج تک اس لڑائی کو نہیں بھولے‘

طیب اردگان 2023 کے بعد دوبارہ خلافت عثمانیہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور سعودی عرب ترکی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے‘ سعودی سمجھتے ہیں ترکی عثمانی بادشاہوں کے ڈرامے بنا کر اسلامی دنیا پر اثرانداز ہو رہا ہے اور ارطغرل ڈرامہ اس ترک ثقافتی یلغار کا حصہ ہے۔ہم سعودی عرب اور ترکی دونوں کے دوست ہیں‘ ارطغرل ڈرامہ سیریز 2014 میں ترکی میں نشر ہونا شروع ہوئی‘ طیب اردگان نے 2016 میں میاں نواز شریف کو اسے پاکستان میں ریلیز کرنے کا مشورہ دیا ‘ یہ تیار ہو گئے لیکن خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے انھیں روک دیا‘ ان کا خیال تھا عربوں نے ارطغرل کو بین کر دیا ہے‘ ہم نے اگر اس کی اجازت دی تو عرب ناراض ہو جائیں گے۔چنانچہ نواز شریف نے ترک حکومت کو ٹالنا شروع کر دیا اور یہ ٹالتے ٹالتے اپنی مدت پوری کر گئے‘ عمران خان کو سفارتی تجربہ نہیں تھا چنانچہ یہ آئے اور ارطغرل کو پی ٹی وی پر دکھانا شروع کر دیا اور اس نے چند ہفتوں میں پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے‘ سعودی عرب ناراض ہو گیا مگر ہم نے اس ناراضگی کی پرواہ نہیں کی‘ ارطغرل کی کھودی ہوئی خلیج اب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور آپ آج نوٹ کر لیں ارطغرل آنے والے دنوں میں عمران خان کا سب سے بڑا سیاسی دشمن اور نواز شریف کا محسن ثابت ہو گا‘‘ میں ہنس پڑا ‘ اس دوران ہمارے ساتھیوں نے ہمیں گھیر لیا اور ہمارا ڈائیلاگ درمیان میں رہ گیا۔مجھے یہ بات اس وقت پیالی کا دھواں محسوس ہوئی لیکن یہ دھواں آہستہ آہستہ حقیقت بنتا چلا گیا‘ آج سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار ہو چکے ہیں‘ یہ سردمہری وزیراعظم کے ایک مشیر اور ارطغرل ڈرامے سے اسٹارٹ ہوئی تھی‘ ہم نے دوسری اینٹ دسمبر 2019 کی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کے اعلان سے رکھ دی جس کے بعد سعودی عرب نے اگست 2020 میں ہم سے ایک بلین ڈالر واپس لے لیے اور ادھار تیل دینے سے بھی انکار کر دیا۔جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوشش سے یہ خلیج کم ہوئی لیکن پھر اچانک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو یہ دھمکی دے کر ساری کسر پوری کر دی ’’اگر او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم اپنے دوست ملکوں (ترکی‘ ایران اور ملائیشیا) کا اجلاس پاکستان میں بلا لیں گے‘‘ اس کے بعد سعودی عرب ہم سے مکمل ناراض ہو گیا‘ سعودی حکمرانوں نے اس دوران میاں نواز شریف سے رابطے بڑھانا شروع کر دیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں