سرگودھا کے مہر جی کا دلچسپ مشورہ : جناب اگر بات مولانا فضل الرحمٰن پر پہنچ گئی ہے تو نواز شریف اور زرداری کو چاہیے کہ وہ عمران خان سے صلح کر لیں ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) سیاسی فضاء میں ایک بھونچال کی کیفیت ہے۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد اپنی کمر کس رہا ہے۔ صفیں سیدھی کی جا رہی ہیں اور اپوزیشن اتحاد نے اپنی سربراہی کے لیے بالآخر مولانا فضل الرحمٰن کا انتخاب بھی کر لیا ہے۔ایک لطیفہ جو میں پہلے بھی شاید لکھ چکا ہوں،

نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یوں ہے کہ ورلڈ وار کے دوران جب ہٹلر نے انگریزوں کو پریشان کر دیا تو ہندوستان میں انگریز صاحبان نے مدد کے لیے ہندوستانیوں کو پکارا چنانچہ اس سلسلے میں انگریز افسر ہر جگہ پہنچے خصوصاً ضلع سرگودھا میں جو فوج کی بھرتی کے لیے مشہور تھا لیکن ان دنوں شاہ پور ضلع تھا۔ انگریزوں نے پنجاب کے بعض علاقوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا ہوا تھا اور ان علاقوں میں آباد لوگوں کو وہ مارشل ریس کہہ کر بے وقوف بناتے تھے۔یہ ایک سامراجی مغالطہ تھا جس کو آزادی کے بعد پست قامت بنگالیوں نے دور کر دیا۔ مارشل ریس کے ان علاقوں سے انگریز اٹھارہ روپے ماہوار پر سپاہی بھرتی کرتے تھے اور انھیں جرمنوں اور جاپانیوں کی توپوں کے سامنے لے جاتے تھے۔ لام بندی کے اس زمانے میں ایک انگریز افسر بھرتی کے لیے ضلع شاہ پور پہنچا اور اپنی رعایا کو مدد کے لیے طلب کیا۔ علاقے کے لوگوں نے کہا کہ آپ مہر صاحب کو بلائیں، ہم تو ان کے حکم پر چلتے ہیں چنانچہ مہر صاحب کی تلاش میں پٹواری دوڑائے گئے، وہ دریا کے بیلے میں بھینسیں چرا رہے تھے۔ مہر صاحب ڈانگ ہاتھ میں لیے ننگے بدن ایک تہہ بند میں حاضر ہوئے۔انگریز نے ان کے سامنے لیکچر شروع کیا اور انھیں بتایا کہ برطانیہ کا تاج خطرے میں ہے اور رعایا کا فرض ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں تاج سے وفاداری کا ثبوت دے اور فوج میں بھرتی ہو کر تاج کی حفاظت کرے۔

مہر صاحب ڈانگ کے سہارے کھڑے ہو کر انگریز صاحب کا لیکچر غور سے سنتے رہے چنانچہ بات ختم کر کے انگریزصاحب نے پوچھا کہ ویل! مہر صاحب آپ کا کیا خیال ہے۔ مہر صاحب جو تاج برطانیہ کے اس نمایندے کی بات اچھی طرح سمجھ چکے تھے، صاحب کو یہ صائب مشورہ دیا کہ اگر معاملہ ہم مہر صاحبان تک پہنچ گیا ہے تو ملکہ سے کہیں کہ وہ ہٹلر سے صلح کر لے۔مجھے یہ واقعہ یا لطیفہ اپوزیشن کے تازہ اتحاد کے قیام سے ایک بار پھر یاد آیا ہے۔ غور و فکرکے بعد جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اگر میں عرض کروں تو اس اتحاد کے لیڈر صاحبان ناراض ہو جائیں گے کہ اگر بات مولانا فضل الرحمٰن تک پہنچ گئی ہے تو نواز شریف اور آصف زرداری کو چاہیے کہ وہ عمران خان سے صلح کر لیں ۔ پہلے بھی کئی بار عرض کیا ہے کہ مضبوط اپوزیشن کا وجود ملک کی جمہوریت کے لیے لازم اور ملک کے مفاد میں ضروری ہے لیکن موجودہ اپوزیشن پہلے تو کسی ایک جگہ بیٹھنے پر متفق ہی نہیں ہو رہی تھی اور جب ہوئی تو بے دلی سے اور اہم رہنماؤں کی غیر موجودگی کی وجہ اپوزیشن کے اس اتحاد میںوہ جان نظر نہیںآئی جو اپوزیشن اتحادوں کا خاصہ ہوتی ہے۔محسوس یوں ہوتا ہے کہ نیم دلی کے ساتھ ایک اپوزیشن اتحاد تشکیل دیا گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتیں۔ پیپلز پارٹی سندھ حکومت کے مزے لوٹ رہی ہے

اور کسی قیمت پر اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جب کہ نواز شریف لندن سے وطن واپس آنے کو تیار نہیں ہیں جب تک دونوں پارٹیاں اپنے اپنے سیاسی مفادات سے ہٹ کر حقیقی طور پر اپوزیشن پارٹی میں تبدیل نہیں ہوں گی تب تک ملک میں اپوزیشن کی دال گلتی نظر نہیں آ رہی بلکہ اس کمزور اپوزیشن سے حکومت مزید مضبوط ہو گی اور عمران خان کے اس بیانیے کو مزید تقویت ملے گی کہ اپوزیشن اپنی چوریاں بچانے کے لیے اتحاد بنا رہی ہے۔میں آج بھی میاں نواز شریف کو حکومت کی ایک موثر اپوزیشن سمجھتا ہوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپوزیشن کی قیادت خود کریںکیونکہ جو طاقت میاں نواز شریف کے پاس موجود ہے وہ کسی اپوزیشن پارٹی کے پاس نہیں ہے ۔ اور اپوزیشن پارٹیو ں نے جو لولا لنگڑا اتحاد بنایا ہے یہ تو ضلع شاہ پور کے برطانیہ بے زار مہر صاحبان کا اتحاد ہے۔ مگر بعد معذرت اپوزیشن بھی کیا کرے اور وہ لوگ کہاں سے لائے، سیاست کے بازار میں اب یہی مال دستیاب ہے۔ ممتاز محمد خان دولتانہ، نوابزادہ نصر اللہ خان، سید ابوالاعلیٰ مودودی، چوہدری محمد علی، عبدالولی خان وغیرہ اور مشرقی پاکستان کے بہادر سیاستدان کہاں سے لائیں ۔بس اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے۔ اب تو صرف یہی لوگ رہ گئے ہیں جو ہمارے سامنے ہیں اور اپوزیشن نے سیاست کے بازار میں جو فصل پیش کی ہے، اس کا خریدار کوئی نہیں۔ بے پناہ مہنگائی، بد امنی اور بے روزگاری کے باوجود اس اپوزیشن کا ساتھ دینے پر کوئی تیار نہیں ہے۔ لوگ کیسے اس اتحاد پر اعتبار کریں جس کے بیشتر لیڈروں کو وہ آزما چکے ہیں اور جن کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ وہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔گزشتہ دس برس سے تو انھی لوگوں کے ہاتھ میں ملک کی باگ دوڑ تھی۔ اس اتحاد کی دونوںبڑی پارٹیوں کا اصل مقصد اپنی قیادت کو احتساب کے چنگل سے بچانا اور ان کے لیے رعایتیں حاصل کرنا ہے۔ آج حکومت یہ رعایتیں دینے کا اعلان کر دے کل آپ دیکھیں گے کہ اپوزیشن اتحاد خاموش ہو جائے گا۔ لیکن عمران خان بار بار یہ دہراتے ہیں کہ وہ کسی چور لٹیرے کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے۔ اس لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپوزیشن جلسوں کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے، اپوزیشن اتحاد کا پہلا جلسہ کوئٹہ میں منعقد ہو گا۔اپوزیشن آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے پاس اداروں پر تنقید کے سوا اور کوئی چورن نہیں جس کو وہ مارکیٹ میں بیچ سکے۔ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، اپنا یہ حق ضرور استعمال کریں لیکن ملکی سلامتی کے اداروں کی تضحیک اپوزیشن کا حق نہیں۔ اپوزیشن کی روایات کو ضرور زندہ رکھیں لیکن احتیاط لازم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں