مفلسی، بے بسی اور یتیمی قبول ہے، مگر سرکارِ مدینہ ﷺ کے دامن کو چھوڑنا کسی صورت گوارا نہیں۔۔۔ مدینہ منورہ کے ایک یتیم بچے کی سچی کہانی آپ کی آنکھیں نم کردے گی

لاہور (ویب ڈیسک) یہ اس دور کی بات ہے جب لوگ ہندوستان سے حج کرنے کے لئے بحری جہازوں میں سفر کیا کرتے تھے۔ میں جس قافلے کے ساتھ تھا اُن میں سے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر مسجد نبویﷺ سے ملحق اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی۔ وہ سخت گرمیوں کا موسم تھا

نامور مضمون نگار عمران کیف اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور وہاں سے جب دل کرتا مسجد نبویﷺ میں آ جایا کرتے۔ ہم تمام حاجی اکٹھے ہوکر شام کا کھانا کھاتے اور گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے۔ تربوز کھانے کے بعد اُس کے چھلکے باہر پھینک دیتے، اسی دوران ہم نے دیکھا کہ ایک سات یا آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اُٹھاتا جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی وہ اُن چھلکوں کو کرید کرید کر کھاتا اور اسی طرح ہم سب نے دو دن جب غور کیا تو اُس بچے سے پوچھا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ تو بچے نے کہا ”میں ایک یتیم بچہ ہوں اور میرے والد فوت ہوچکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدِثانی کر لیا ہے اور گھر میں غربت اور فاقے ہیں“۔ ہم سب حاجی اُس بچے کی باتیں بڑے غور سے سُن رہے تھے، بچہ کہنے لگا کہ ”میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں“۔ مدینے کے اُس بچے نے اپنی فہم وفراست کی وجہ سے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دیئے اور ہم سب کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ہم نے اُس بچے سے کہا کہ بیٹا! جب تک ہم یہاں پر ہیں اگر آپ مناسب سمجھو تو ہمارے ساتھ آکر کھانا کھا لیا کرو۔ بچہ پہلے ہمیں انکار کرتا رہا مگر ہمارے بے شمار اصرار پر وہ مان گیا اور ہمارے ساتھ روزانہ کھانا کھانے پر رضا مند ہوگیا۔

اسی طرح کچھ دنوں میں ہماری اُس بچے کے ساتھ دلی وابستگی ہوگئی اور انس و محبت جب پروان چڑھی تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا! آپ میرے ساتھ ہندوستان آجاؤ۔ میں آپ کے لیے مکمل تعلیم کا انتظام کروں گا۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم کا بندوبست کروں گا۔ بچے نے کہا پہلے میں اپنی والدہ سے اجازت لے لوں تو پھر آپ کے ساتھ چلنے کے لئے حامی بھروں گا۔ اسی طرح اُس بچے نے اپنی والدہ سے اجازت لے لی اور جب ہماری واپسی کا دن آیا تو بچہ اپنا سامانِ سفر باندھ کر آگیا۔ بچے کے ساتھ چلنے پر ہم سب بہت زیادہ خوش تھے۔ جب بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو میں نے اُس بچے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پھر وہ دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو ہوکر مجھ سے سوال کرنے لگا کہ چاچا جی! کیا ہندوستان میں بہت اچھے سکول ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا ہاں! وہاں بہت اچھے سکول ہیں۔ بچے کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ پھر بچہ پوچھنے لگا کہ کیا مجھے وہاں بہت اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں! بیٹا بہت اچھے کپڑے ملیں گے۔ پھر اُس بچے نے پوچھا کہ کیا مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے لئے گراؤنڈ میسر آئیں گی؟ جی ہاں بیٹا! ہندوستان میں فٹ بال بہت کھیلا جاتا ہے۔ بچے نے پھر پوچھا کیا مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا! کیوں نہیں، یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی۔اسی دوران چلتے چلتے سامنے گنبدِ خضریٰ نظر آگیا، بچے کی نظر گنبد پر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی، یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا کیا؟ یہ سوال سنتے ہی میرے پاؤں سے زمین نکل گئی اور مجھے اس سوال نے لاجواب کردیا۔ پھر میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا! اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو ہمیں یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔! بچے نے جب یہ جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا ”چاچا جی! مفلسی، بے بسی اور یتیمی قبول ہے، مگر سرکارِ مدینہ ﷺ کے دامن کو چھوڑنا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔“ بچہ یہ کہہ کر بھاگا اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا مگر ہماری آنکھوں سے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ یہ واقعہ مولانا ظفر احمد عثمانی کے ساتھ پیش آیا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میں کبھی کسی محفل میں ایسا لاجواب نہیں ہوا جتنا اُس بچے سے ہوا تھا۔ مولانا یہ واقعہ اپنی باقی ماندہ زندگی لوگوں کو رُو رُو کر سنایا کرتے تھے۔ہم جیسے بھی ہیں، یتیمی میں ہیں یا مسکینی میں، مفلسی میں ہیں یا غریبی میں، ایک مومن اور مسلمان کے لئے اُس کے نبی ﷺ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں