تمام دعوؤں کے پول کھل گئے ۔۔۔۔ بلین ٹری سونامی منصوبے نے پاکستانی خزانے کو کتنا بھاری نقصان پہنچا دیا ؟ خصوصی آڈٹ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) خصوصی آڈٹ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ خیبر پختونخواہ (کے پی کے) کے جنگلات کے حکام کی بد انتظامی کے باعث بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کو 410ملین روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے گورنر کے پی کے کے سامنے

یہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں نقصانات ، بے ضابطگیاں، بد انتظامی اور اخراجات پر کمزور کنٹرول کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔دستیاب رپورٹ کے مطابق جنگلات کے حکام صوبے کے سات غیر ملکی ڈویژنوں میں 36فیصد درختوں کو لگانے کا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمانہ نرسریوں میں بیجوں کے زیادہ نرخوں کے دعوے کے بعد بھاری نقصان ہوا،چترال میں 226 ، بٹہ گرام میں 109، طور غر میں 27ویرہ میں کلوژرز کی بندش سے محکمہ کو 109 ملین روپے کا نقصان ہوا۔قومی احتساب بیورو نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ میں متعدد انکوائریوں اور تحقیقات کی منظوری سے ہفتوں قبل گورنر کے پی کے کے سامنے خصوصی رپورٹ پیش کی تھی۔آڈٹ میں مذکورہ بالا رقم کی بازیابی کی سفارش کی گئی ہے اور 25 فروری 2019 کو منعقدہ محکمہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فیلڈ آفسز کے ذریعہ محکمہ نرسریوں میں بیجوں کے لئے کی جانے والی زائد ادائیگی کی وصولی کریں۔ تاہم اس رپورٹ کے پیش کرنے تک کسی پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کلبھوشن یادیو سے متعلق عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بھارت اور کلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی۔سماعت سے قبل 2 سینئر وکلا مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔ عابد حسن منٹو نے خراب صحت جب کہ مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کرلی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلئے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے 4 ستمبر کو بھارتی وزارت خارجہ کو عدالتی حکم کے حوالے سے آگاہ کیا، 7 ستمبر کو بھارتی حکومت نے پاکستانی وزارت خارجہ کا جواب دیا، بھارت نے ایک بار پھر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں