کتنی حقیقت ، کتنا ڈرامہ ۔۔۔؟ موٹروے کیس کہاں گیا ؟ وزیراعظم عمران خان نے اس دلخراش واقعہ پر کوئی سخت ترین ایکشن کیوں نہیں لیا ؟ تبدیلی کی دال میں کتنا کالا ہے ؟ حیران کن حقائق

لاہور (گمنام صحافی ) لاہور سے براستہ موٹروے گوجرانوالہ جانیوالی خاتون کے ساتھ رات کے اندھیرے میں ہونے والے ظلم کو لگ بھگ 28 روز گزر گئے ؟ مرکزی ملزم عابد تاحال گم یعنی فرار ہے ؟ ظلم کا شکار خاتون کا نام بھی منظر عام پر نہیں آیا ۔ وہ کون ہے

کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے ؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم ؟ حیران کن امر یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں بہت کم ایسے کیسز ہوئے ہیں جن میں متاثرہ خاتون کی پردہ داری کی گئی ۔ بس فرانس کا ذکر ہوا لاہور اور گوجرانوالہ کا یا موٹروے کا ۔۔۔ عام لوگ اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے ۔۔۔ یقیناً عوام کو یہ سب جاننے کی ضرورت بھی نہیں ، لیکن عام شہریوں کو یہ جاننے کا حق تو ہے کہ بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ ہونے والے ظلم پر حکومت خاموش ، بے بس اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھی ہے ؟ ایک عام سا گلی محلے کا اوباش آزاد کیوں ؟ اسے پکڑا کیوں نہیں جا سکا ۔ اور وہ پولیس والوں کے آگے پیچھے پھرتے ہوئے انہیں چکما دے کر کیسے نکل جاتا ہے ؟ ہماری پولیس کے مشہور زمانہ ۔ منٹوں میں کیسز کو حل کردینے والے افسران ، شیر جوان کمانڈوز اور محکمہ پولیس کے مخبر کہاں جا سوئے ہیں ۔سارا ماجرا دیکھ کر پوری قوم حیران پریشان ہے کہ تبدیلی سرکار آخر کس سمت میں اور کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔۔یہ افسوسناک واقعہ ہونے کے بعد جو انکشافات ہوئے اور انہیں جھٹلایا گیا انہیں بھی ذرا ذہن میں لائیے ۔۔۔۔ کہا گیا کہ مجرم عابد کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے کسی مشہور رہنما کے ساتھ ہے اور وہ اسکا پالتو ہونے کی وجہ سے آزاد ہے یعنی محکمہ پولیس کا مجرم عابد کو دیکھنے کے باوجود بلی کی طرح آنکھیں بند کر لینے اور چشم پوشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ دبے الفاظ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ سانحہ موٹروے کا ڈرامہ حکومت نے اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے رچایا ۔۔۔ایک افواہ یہ بھی پھیلائی گئی کہ فرانس کی خاتون اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کے موجود ہونے کا بڑا تعلق ہے ۔۔۔

حالانکہ یہ پھبتی بڑی دور کی معلوم ہوتی ہے اس لیے اس طرف کسی کا دھیان نہ گیا ۔۔۔۔۔ یہ انکشاف البتہ حقیقت معلوم ہوتا ہے کہ خاتون کا تعلق پاکستان کی ایلیٹ کلاس سے ہے اسی وجہ سے اسکا نام بھی آج تک کسی کو معلوم نہیں سوائے پولیس اور چند گنے چنے صحافیوں کے ۔۔۔۔۔ حالانکہ آپ کو یاد ہو گا کہ مختاراں مائی اوراسکے بعد ہونے والے بے شمار واقعات میں متاثرہ خواتین کے ناموں ، شہروں ، گلی محلوں اور گھر کے پتوں کا اس طرح تذکرہ کیا گیا کہ یہ مظلوم خواتین پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور ہو گئیں ، آخر اس کیس میں عورت کا نام اور تفصیلات چھپانے کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے ۔۔۔اب آ جائیے پولیس کی ناکامی کی طرف ۔۔۔۔ لاہور پولیس کے سی سی پی او کے چارج سنبھالتے ہی یہ کیس انکے گلے پڑ گیا اور انکے منہ سے چند جملے کیا نکلے پورا پاکستان، قوم اور میڈیا ان پر پل پڑے ، چند ہی روز میں نوبت یہاں تک آئی کہ انہیں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنا پڑی ۔۔۔ تبدیلی سرکار کے چوہدریوں اور چوہانوں نے مجرم کو گھنٹوں میں پکڑ لینے کے دعوے کیے ، یہ گھنٹے دنوں پر محیط ہوئے اور اب کئی ہفتے گزرنے کے بعد گویا ان ہوشیار اور چالاک وزیروں کے منہ پر تالے پڑ چکے ہیں ۔ آج کل وزیران موصوف کی پریس کانفرنسوں کا مرکز و محور شریف برادران اور مریم نواز ہے ۔۔۔ قربان جائیے اس تبدیلی کے اور ان وزیروں و معاونوں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اس واقعہ کو کئی ہفتے گزرنے کے بعد حال یہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر دن میں ایک آدھ بار اس کیس کا تذکرہ ہوتا ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ قوم کو کئی ہفتے ہیجان اور تجسس میں مبتلا رکھنے کے بعد یہ کیس بھی قصہ پارینہ بن جائے گا ، پھر وہی حالات ، وہی بچے اور عورتیں ، وہی درندے ، وہی سڑکیں اور وہی ظلم اور وہی ہمارے گھر گلیاں کوچے بازار اور کھیت و جنگل ۔۔۔۔ جی ہاں یاد آیا کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر حکومت اور محکمہ پولیس کی اس کیس میں ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے پاک فوج سے اس کیس میں دخل دینے کا مطالبہ وائرل ہوا تھا ۔۔۔ بات تو بالکل دل کو لگتی ہے ۔ اگر آپ کراچی کا گند صاف کرنے کے لیے پاک فوج کو ہدایات جاری کر سکتے ہیں تو پاکستانیوں کے کپتان عمران صاحب ، بچوں کے سامنے ایک شریف عورت پر ہونے والا ظلم آپ کی توجہ کیوں حاصل نہیں کر سکا ۔ آپ کی پولیس جسے آپ مثالی پولیس بنانے جارہے تھے اس کا حال تو آپ کے سامنے ہے ۔ مودبانہ گزارش ہے کہ اگر اس کیس کے پیچھے واقعی کوئی تہلکہ خیز راز پوشیدہ نہیں تو اس کیس کو پاک فوج اور پاکستان کی مایہ ناز خفیہ ایجنسیز کے حوالے کردیجیے ۔۔ چند گھنٹوں میں مجرم گرفتار اور قانون کے شکنجے میں ہو گا ۔۔۔۔ اگر ہماری تجویز جناب کی نازک طبیعت پر ناگوار گزرے تو کان پکڑ کر معافی چاہتے ہیں ، بس ایسے ہی زبان پھسل گئی تھی ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں