والدین اور بچوں کا سب سے بڑا مسئلہ حل! طلباء کی بھاری بھرکم بیگوں سے جان چھڑوانے کی تیاری، اسکول بیگ کے وزن کا تعین کر دیا گیا

پشاور(نیوز ڈیسک ) خیبرپختونخواہ حکومت نے بچوں کے سکول بیگ کے وزن سے متعلق قانون تیار کرلیا ، جس کے تحت نرسری جماعت کے بچوں کے سکول بیگ کا وزن ڈیڑھ کلو ،پہلی جماعت 2.4 کلو،دوسری سے پانچویں جماعت5.3 کلو،چھٹی سے دسویں جماعت 5.4 کلووزن مقرر کیا گیا ہے ،سکول بیگزایکٹ پاکستان کی

تاریخ کا پہلا قانون ہوگا، خلاف ورزی کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کو 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت نے بچوں کے سکول بیگ کے وزن سے متعلق قانون تیار کرلیا ہے، سکول بیگ کے وزن سے متعلق قانون ”دی خیبرپختونخواہ سکول بیگزلیمیٹیشن آف ویٹ ایکٹ 2020“ کہلائے گا۔ قانونی مسودے کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نرسری جماعت کے بچوں کے سکول بیگ کا وزن ڈیڑھ کلو رکھنے کی تجویز ہے۔پہلی جماعت کے بچوں کے سکول بیگ کا وزن 2.4 کلو،دوسری سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کے سکول بیگ کا وزن5.3 کلوگرام رکھنے کی تجویز ہے۔اسی طرح چھٹی سے دسویں جماعت تک کے بچوں کے سکول بیگ کا وزن 5.4 کلو سے ساڑھے6 تک ہوگا۔ گیارہویں اور بارہویں کے طلباء کیلئے سکول بیگ کا وزن 7 کلو گرام رکھنے کی تجویز ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکول بیگزایکٹ پاکستان کی تاریخ کا پہلا قانون ہوگا۔قانون مسودے میں خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کیخلاف جرمانہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کو 2لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔قانون کی خلاف ورزی نہ روکنے پر سرکاری حکام کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔ یاد رہے خیبرپختونخواہ حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کے نصاب اور من مانے مضامین اور نوٹ بکس کے باعث بیگز کا وزن اس قدر زیارہ ہوتا ہے کہ بچوں کو اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں