ایک بار مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود بھی ایک سیاسی اتحاد کے سربراہ بنے تھے ، اس تحریک کا انجام کیا ہوا تھا ؟کالم نگار مظہر برلاس نے بڑے کام کا تاریخی واقعہ بیان کردیا ، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ والے ضرور پڑھیں

لاہور (ویب ڈیسک) نئے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن زیرک سیاستدان ہیں، وہ ملکی سیاست میں سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے انتہائی چالاک سیاسی رہنما ہیں۔ان کی کچھ خوبیاں انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں،

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سارے انگریزی ماڈل سیاست میں ان کے سامنے ہیچ ہیں، انتہائی خوبصورت اور شستہ اردو بولنے والے مولانا فضل الرحمٰن نے دینی مدرسوں سے تعلیم حاصل کی ہے مگر وہ سیاست آکسفورڈ اور ہارورڈ میں پڑھنے والوں سے کہیں بہتر جانتے ہیں۔ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک بھی انگریزی ماڈلوں سے بہتر کرتے ہیں۔سرائیکی، پشتو، پنجابی، عربی اور اردو بولنے والے مولانا فضل الرحمٰن فارسی اور انگریزی بھی خوب سمجھتے ہیں، ایسا نہیں کہ انہیں کھیلوں سے دلچسپی نہیں، وہ والی بال کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں۔ مولانا حاضر جواب ہی نہیں بلکہ کمال کے جملے باز ہیں۔ مولانا نے کمال مہارت سے دو بڑی پارٹیوں کو پیچھے لگا لیا ہے۔شاید اس وقت سیاسی پارٹیوں کی یہ مجبوری بھی ہے کیونکہ ان کے پاس جلسے بھرنے کے لئے افرادی قوت نہیں، جب سے سیاسی پارٹیوں میں پیسے کی پوجا شروع ہوئی ہے، نظریاتی کارکن دور ہو گئے ہیں، نظریاتی کارکن مار کھاتے تھے، کرائے کے کارکن مار نہیں کھاتے۔ اس لئے نہ ن لیگ جلسے بھر سکتی ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی ایسا کر سکتی ہے۔پیپلز پارٹی کے پاس پھر بھی ابھی تک نظریاتی کارکنوں کی کچھ تعداد ہے، ن لیگ کے پاس تو شاید وہ بھی نہیں، جس کا حال خود ن لیگ کے قائد سوری امام دیکھ چکے ہیں۔ رہ گئے اویس نورانی تو ان کو بھی کوئی پلیٹ فارم چاہئے تھا، وہ انہیں مل گیا ہے ویسے مولانا فضل الرحمٰن کے والد مرحوم مفتی محمود اور اویس نورانی کے والد

مولانا شاہ احمد نورانی قومی اتحاد میں اکٹھے رہ چکے ہیں۔شکست کے بعد محمود اچکزئی کو بھی گرم مسالہ بیچنے کے لئے مارکیٹ درکار تھی، ان کا کام بھی بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے گیارہ اکتوبر والا جلسہ اٹھارہ اکتوبر کو کر دیا ہے لہٰذا اگلے دس بارہ دن بیانات پر گزارہ ہو گا۔ سیاستدان مفادات کی آڑ میں بیان بازی کرتے ہیں۔نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز دل کھول کر بےنظیر بھٹو، بھٹو صاحب، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بیانات داغتے رہے ہیں۔ اسی طرح آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری شریف خاندان پر خوب گرجتے برستے رہے ہیں۔ چونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس لئے وفا نام کی چیز سیاست میں نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان تو سب کے خلاف ہی تقریریں کرتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو ووٹ بھی دیا تھا، نواز شریف کے ساتھ ایک اتحاد میں بھی رہے ہیں۔ آج کل تمام سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں، یہ تمام لوگ اداروں کو بھی نہیں بخش رہے، سارا کھیل کرسی کے لئے کھیلا جا رہا ہے اور کرسی آج تک کسی کی ہوئی نہیں۔اپوزیشن نے حالیہ طوفانی بیانات کے ذریعے حکومت کو گھیر لیا ہے، حکومتی وزراء اور مشیر جذباتی ہو گئے ہیں، یہی وہ کام ہے جو پہلے نہیں ہو رہا تھا۔ کورونا کے بڑھتے ہوئے اثرات اپوزیشن کا رستہ روک سکتے ہیں ورنہ وہ تو اسی ڈگر پر چل پڑی ہے جس ڈگر پر قومی اتحاد چلا تھا۔ اس وقت اتحاد کے سربراہ مفتی محمود مرحوم تھے، قومی اتحاد نے بھٹو صاحب کو گھیر لیا تھا، جب لڑائی عروج پر پہنچی تو راستے میں کوئی اور آ گیا تھا۔آج اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں، آج پھر اپوزیشن وزیراعظم کو گھیرنے کے چکر میں ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں کوئی آ جائے اور پھر شبلی فراز کو کتاب لکھنی پڑ جائے۔ ’’اور رستہ کٹ گیا‘‘ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اگر پھر بھی سمجھ نہیں آ رہی تو پھر وصیؔ شاہ کے اس شعر پر غور ضرور کیجئے کہ یہ شعر حالات کا عکاس ہے۔یہ آگ لگنے سے پہلے کا وقت ہے لوگو،،،پھر اِس کے بعد تختہ نہ تخت ہے لوگو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں