عمران خان کچھ کر پائے گا یا نہیں ؟ شریف اور زر والے لٹیرے ہیں یا نہیں ؟ اگلی باری کس کی ہو گی ؟ ان تین سوالات کا آج کل پاکستانی کیا جواب دیتے ہیں ؟ ایک خصوصی رپورٹ پڑھیے اور اپنی رائے بھی دیجیے

لاہور (شیر سلطان ملک) اقتدارقائم رکھنے کی فکر اور اقتدار سے دور ہونے کی تروٹ میں مبتلا ہمارے سیاستدان آج ایک ایک دوسرے کے ساتھ زبانی کلامی دست و گریبان ہیں ۔ حکمران جماعت خود کو ، صرف اور صرف خود کو محب وطن ، مسیحا اور پاکستان کے لیے لازم و ملزوم جبکہ اپوزیشن

کو غدار ملک دشمن ، بدعنوان اور چوروں لٹیروں کا ٹولہ سمجھتی ہے ۔ اسی طرح اپوزیشن حکمران جماعت کو ہر صورت میں فارغ کرکے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہونا چاہتی ہے اور اس کوشش میں حکومت پر ہر طرح کا الزام عائد کر چکی ہے ۔ عوام کی رائے اور امنگوں کی ان نام نہاد عوامی لیڈران کو کوئی پروا نہیں ۔ جب کہ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ موجودہ منتخب یا سیلیکٹڈ حکومت کو آئے ابھی بمشکل 2 سال کا وقت ہوا ہے ۔ آپ کو بتاتے چلیں اور شاید اس بات کا مشاہدہ خود آپ نے بھی کیا ہو کہ ہمارے قصبوں و دیہات کی اجڑتی چوپالوں ، بیٹھکوں اور ہمارے شہروں کے ہوٹلوں پر جمنے والی مختصر محفلوں میں اکثر اس بات پر گفت و شنید اور بحث ہوتی ہے کہ (1) موجودہ حکومت کچھ کر رہی ہے یا نہیں ؟ (2) شریف اور زر والے واقعی چور لٹیرے ہیں یا نہیں ؟ (3) اگلی بار اقتدار میں کون آئے گا ؟ ایسے سوالات پر آج بھی گرما گرم بحث ہوتی ہے ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل پہلے سوال پر کہ کیا عمران حکومت کچھ کر پائے گی یا نہیں ۔۔ عام لوگوں کی رائے یہی ہوتی تھی کہ ابھی تو ایک سال ہوا ہے ، عمران خان کو چلنے دو امید ہے کچھ نہ کچھ کر جائے گا ۔۔۔ آج اسی سوال کا جواب معلوم کرنی کی کوشش کی جائے تو بیشتر لوگ جواب دیتے ہیں ۔۔۔ مشکل ہے عمران خان سے کچھ نہیں ہونا ۔۔۔۔ (وجہ عمران اینڈ کمپنی کی عوامی مسائل سے زیادہ اپوزیشن کو چور قرار دینے اور ثابت کرنے میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی )

اسی طرح آج سے ایک سال پہلے جب لوگوں سے پوچھا جاتا کہ کیا شریف اور زر والے آپ کی نظر میں واقعی چور ہیں ؟ لوگوں کی بڑی اکثریت کا جواب ہوتا ۔۔۔ ارے بھئی اب بھی شک ہے آپ کو ، اگر یہ لوگ چور نہیں تھے تو ملک کا یہ حال کیسے ہو گیا ۔۔۔ لیکن آج 2 سال گزرنے کے باوجود جب عمران اینڈ کمپنی کچھ کرنے کے قابل نظر نہیں آرہی اور ہوا میں تیر چلائے جا رہی ہے تو اسی سوال کا اکثر لوگ اب یہ جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔ بھئی صاحب بات یہ ہے کہ اگر کسی شریف شہری کے بارے میں بھی ہر طرف چور چور کا خطاب مشہور کردیا جائے تو چند دن میں پورا شہر اسے چور ہی سمجھنے لگے گا ۔ یہ پروپیگنڈہ بڑی ظالم چیز ہوتا ہے ۔ ( وجہ وہی عمران حکومت کا عوام کے مسائل سے زیادہ شریفوں اور زر والوں کو چور لٹیرا ثابت کرنے پر فوکس ) ۔ اب آ جائیں تیسرے سوال کی طرف : آج سے ایک سال قبل اگر لوگوں سے پوچھا جاتا کہ عمران خان اگلی بار اقتدار میں آسکے گا یا نہیں ، یا اگلی حکومت کس کی ہوگی؟ تو جواب ملتا ۔۔۔۔ اگر عمران خان کچھ کر گیا تو اگلی باری پھر پی ٹی آئی کی ہوگی ۔۔ لیکن آج 2 سال بعد اگر لوگوں سے یہی سوال کیا جائے تو جواب ملتا ہے ۔۔۔۔ عمران خان تو اللہ نہ کرے پھر آئے کیونکہ اس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں ، لیکن شریفوں اور زر والوں کا مقصد بھی صرف اور صرف اقتدار ہے ۔۔۔ یا اس سوال کا ایک جواب کئی لوگ یہ بھی دیتے ہیں کہ ان نام نہاد جمہوروں سے بہتر تو فوجی آمر تھے جن کے دور میں ظلم ، ناانصافی اور مہنگائی کے طوفان ایک ساتھ اس طرح تو وارد نہ ہوئے تھے ۔۔۔ ( وجہ وہی عمران حکومت کی انتہائی مایوس کن کارکردگی ) قارئین ۔۔ مندرجہ بالا تین سوالات میں سے کسی سوال کا جواب اگر آپ کے ذہن میں بھی آرہا ہے تو اسے کمنٹس میں ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں