اشتہارات میں عورتوں کو خوبصورت ترین بنا کر پیش کرنے کے پیچھے کیا عالمی سازش کارفرما ہے ،یہ اشتہارات دنیا بھر کے مردوں اور عورتوں پر کیا اثرات مرتب کررہے ہیں ؟ اوریا مقبول جان کی ایک جاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تحقیق نے’’ امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن‘‘ (American Psychological Association) کی ٹاسک فورس کی 2007ء میں مرتب کردہ ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ عورتوں کو اشتہارات میں ایک جسم ‘‘ کے طور پر

پیش کرنے سے لاتعداد معاشرتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور ان اشتہارات سے جنم لینے والی ’’ہیجان انگیزی‘‘ عورتوں کے خلاف ’’مخصوص جرائم‘‘ میں اضافہ کر رہی ہے‘‘۔ اشتہارات میں عورت کو جس طرح استعمال کیا جاتاہے اور اس کی جسمانیت و نسوانیت سے کھیلا جاتاہے ،اس نے پورے معاشرے میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اشتہارات میں عورتوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کے نزدیک وہ صرف ایک جسم ہوتی ہے، جسے ہر لمحے اور ہر وقت ایسی نظروں سے دیکھا جائے جو اس کی مخصوص حوالوں سے پیمائش کرتی ہوں۔ عورتوں کو ان اشتہارات میں اس طرح پیش کرنے کا مقصد مردوں کے دل و دماغ کوپر لطف انداز اور تلذز کے نشاط انگیز لمحے میں لے جانا ہوتا ہے اور جب وہ ایسی نفسیاتی حالت میں چلے جاتے ہیں تو پھر ان کا دماغ یہ قبول کر لیتا ہے کہ ایک میسر عورت کا’’استعمال ‘‘ کرنا جائز ہے، خواہ وہ اسے چٹکی بھرنا، تھپتھپانا یا ہنسی مذاق میں ان کے جسم چھونا ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح کی آدمی کی ذہنی حالت ہو گی وہ ویسا ہی استعمال کرے گا۔ یونیسف کی یہ رپورٹ پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ’’سوشل میڈیا‘‘ کے خطرناک اثرات پر بھی تبصرہ کرتی ہے۔ سوشل میڈیا میں چونکہ ہر طرح کے جذبات کے اظہار کی آزادی ہے، اس لیے کہیں جسم کی نمائش کرنے والی عورتوں کی توصیف ہو رہی ہوتی ہے اور کہیں انہیں طوائف ، جسم بیچنے والی اور

حراّفہ وغیرہ کہہ کر پکارا جارہا ہوتا ہے۔یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس دوغلے پن، دوہرے معیارات اور لوگوں کی آپس میں لڑائی نے دنیا بھر کی خواتین کی نفسیاتی اور ذہنی صحت پر بدترین اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان میں اضطراب (Anxiety)، کم لباسی پر شرم، بھوک کی کمی، اپنے آپ میں عزتِ نفس کی کمی اور ڈپریشن جیسے بے شمار امراض پیدا ہو چکے ہیں۔ یونیسف کہتی ہے کہ خوبصورت جسموں کو آئیڈیل اور ماڈل کے طور پرپیش کیا جانا، عورتوں میں خطرناک ڈپریشن پیدا کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں سے صرف گیارہ فیصد خواتین ایسی ہیں جوسمجھتی ہیں کہ وہ خوبصورت ہیں اور باقی 89 فیصد خود کو پیدائشی طور پر نامکمل بلکہ بدصورت خیال کرنے لگتی ہیں۔ دنیا بھر کی عورتوں کا سب سے بڑا مسٔلہ اور سب سے اہم ’’کارنامہ‘‘ صرف جسم کا تناسب اور خوبصورتی حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ دوسری جانب مرد ان اشتہاروں کے نتیجے میں جس طرح مردوں کو مردانگی کا نمونہ، جسمانی طاقت اور ہیرو شپ کے آئیڈیل بنا کر پیش کرتے ہیں، اس سے دنیا کے مردوں میں ہیجان، مخصوص طاقت کی برتری اور طاقت کا ایک ایسا خوفناک تصور ابھرتا ہے، جو انہیں نفسیاتی بڑائی اور شہوت انگیزی میں لے جا کرعورت پر ہلہ بولنے کی لاشعوری ترغیب دیتا ہے۔ یہ تمام گفتگو کسی مسجد کے منبر یا دقیا نوسی خیالات والے دانشور کی زبان سے برآمد نہیں ہوئی ہے، بلکہ دنیا کے بڑے بڑے نفسیات دانوں کے عمیق مطالعے کا نتیجہ ہے، جسے یونیسف نے دنیا کے سامنے ایک الارم کے طور پیش کیا ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس سب کے باوجود بھی ہمارا میڈیا سنبھلے گا اور نہ صاحبانِ اقتدار۔

اپنا تبصرہ بھیجیں