”مجھے ناچ گانا پسند ہے کیا پیمرا ہماری آواز سنے گا؟“ بسکٹ کے اشتہار پر غریدہ فاروقی نے اپنی رائے کا اظہار کیا تو انصار عباسی پھر میدان میں آگئے ، نئی بحث شروع ہو گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) بسکٹ بنانے والی نجی کمپنی کے اشتہار پر انصار عباسی نے تنقید کی تو سوشل میڈ یا پر نئی بحث شروع ہو گئی ،کچھ لوگ انصار عباسی سے مکمل اتفاق کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بعض افراد انصار عباسی کی سوچ سے اختلاف کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر غریدہ فاروقی نے

کہا کہ پیمرا نے عذر تراشا ہیکہ ٹویٹر وٹس ایپ سوشل میڈیا پر پیمرا کو ب±را بھلا کہا جا رہا تھا گالا بسکٹ اشتہار پر۔ پیمرا قانون کے تحت کام کرتا ہے یا شدت پسندانہ رویوں کے تحت خوفزدہ ہو کر؟ میرے جیسی کئی خواتین کو ناچ گانا پسند ہے ہم جمہوری مہذب سوچ رکھتے ہیں کیا پیمرا ہماری آواز سنے گا؟۔اس پر انصار عباسی کا کہنا تھا کہ جس کو ناچ گانا یا مجرا پسند ہے وہ اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر منعقد کر لے۔ اسلام اور آئین پاکستان کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول فراہم کرے۔ ان شااللہ اس کے لیے پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔ کہا کہ پیمرا نے عذر تراشا ہیکہ ٹویٹر وٹس ایپ سوشل میڈیا پر پیمرا کو ب±را بھلا کہا جا رہا تھا گالا بسکٹ اشتہار پر۔ پیمرا قانون کے تحت کام کرتا ہے یا شدت پسندانہ رویوں کے تحت خوفزدہ ہو کر؟ میرے جیسی کئی خواتین کو ناچ گانا پسند ہے ہم جمہوری مہذب سوچ رکھتے ہیں کیا پیمرا ہماری آواز سنے گا؟۔اس پر انصار عباسی کا کہنا تھا کہ جس کو ناچ گانا یا مجرا پسند ہے وہ اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر منعقد کر لے۔ اسلام اور آئین پاکستان کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول فراہم کرے۔ ان شااللہ اس کے لیے پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں