دیکھتا ہوں اب پاکستان کیسے ترقی نہیں کرتا ۔۔۔!!!وفاقی حکومت نے سندھ اور بلوچستان کے تمام جزائر اپنی تحویل میں لے کر خصوصی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) صدر مملکت نے جزائر سے متعلق آرڈیننس 2 ستمبر 2020ء کوجاری کیا۔ سندھ اور بلوچستان کے جزائرکی مالک وفاقی حکومت ہوگی۔ بنڈال اور بڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی۔ ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976 کے زیرانتظام ساحلی علاقے بھی وفاق کی ملکیت ہونگے۔ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے

پاکستان آئی لینڈز ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرے گی۔اتھارٹی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کی مجاز ہوگی۔ اتھارٹی کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہوگا،علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوسکیں گے۔ اتھارٹی غیرمنقولہ جائیداد پرتمام لیویز، ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفرچارجز لینے کی مجاز ہوگی۔ وزیراعظم اتھارٹی کا پیٹرن ہوگا جو کارکردگی کے جائزے سمیت پالیسی ہدایات جاری کرے گا۔حکومت چیئرمین سمیت 5 سے 11 ارکان پر مشتمل 5 سال کیلئے پالیسی بورڈ تشکیل دے گی۔ آرڈیننس میں مزید کہا گیا کہ حکومت گریڈ 22 یا مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر کو اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کرے گی۔ آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل کےعہدے کے مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر بھی چیئرمین تعینات ہوسکیں گے۔ چیئرمین کےعہدے کی مدت چارسال ہوگی جس میں ایک بار توسیع ہوسکے گی۔پیٹرن، اتھارٹی، چیئرمین، ممبر یا کسی بھی عہدیدار یا ملازم کےخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکےگی۔ اسی طرح آرڈیننس کے متن میں کہا گیا کہ اتھارٹی ایک یا زیادہ رجسٹرار مقرر کر سکے گی۔ رجسٹرار کو سول کورٹ کا اختیارہوگا جوکسی فرد یا دستاویزات کی طلبی کا مجاز ہوگا۔ اتھارٹی کے زیر انتظام ایک فنڈ بھی قائم کیا جاسکے گا۔ اتھارٹی کو دس سال کیلئے آمدنی، منافع اور وصولیوں پر ٹیکسوں کی چھوٹ ہوگی۔ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر6 ماہ سے 7 سال تک قید اور جرمانہ کی سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں