مسلم ملک آذربائیجان نے کون کون سے علاقے فتح کر لیے ہیں ؟ دل خوش کر دینے والی تفصیلات آ گئیں

باکو(ویب ڈیسک)آذر بائیجان کی مسلح افواج نے اب تک بائیس آبادیوں کو آرمینی قبضے سے آزاد کروا لیا ہے۔ ایک بیان میں آذری دفاعی ذرائع کے توسط سے بتایا گیا ہے کہ جبرائیل سمیت زیریں سید احمدلی،زیریں مارالیان،مہدی لی،کوئیجاق،قند ہورادز،چاکر لی،بویوک مرجانلی،شے بے،تالش،کارکولو،شکروبےلی،بالائی مارالیان،جرکان،دشکسان،دیجان،محمودلو،جعفرآباد،سوگاووشان اور پاپی نامی دیہاتوں

سمیت بائیس آبادیوں کو آزاد کروا لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ آرمینی۔آذری محاذ پر ستائیس ستمبر کی رات آرمینیا کی طرف سے جھڑپوں کا آغاز ہو گیا تھاجس کے جواب میں آذری فوج نے کاروائی کرتے ہوئے بعض علاقوں کو آرمینی قبضے سے آزاد کروا لیا تھا۔وسری طرف ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کے مشیر احتساب و داخلہ شہزاداکبر نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے عدالت میں بیان پر اپنے ٹوئٹ میں کہاہے کہ شہباز صاحب!اس عمر میں وہ حرکتیں نہ کریں جس سے کمر میں دردہوتاہے۔مشیر احتساب شہزاداکبر کا اپنے ٹوئٹ میں کہاہے کہ شہبازصاحب!آپ بدعنوانی کیس میں ریمانڈ پر ہیں ،شہبازصاحب!آپ چھٹی پر نہیں ،سوالات کا جواب دیں ، شہزاداکبر کا کہناہے کہ اس عمر میں وہ حرکتیں نہ کریں جس سے کمر میں دردہوتاہے،انہوں نے کہاکہ اصل شکایت آپ کو بڑے بھائی سے ہے جنہوں نے ش لیگ بننے سے پہلے ختم کردی ۔یاد رہے کہ شہبازشریف نے کمرہ عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ میری ایک شکایت ہے جو بہت ضروری ہے ،سارازمانہ جانتا ہے مجھے کمر کی تکلیف ہے،25 سال سے اس تکلیف میں مبتلاہوں، میں نماز پڑھنے کیلئے کرسی کارخ تبدیل کرنے کیلئے مدد لیتا تھا،یکم اور2 اکتوبر کو میری مدد کرنے سے انکار کردیاگیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ میں نے نیب والوں کو کہا مجھے کمر میں تکلیف ہے میں نیچے نہیں بیٹھ سکتا،مجھے پہلے کھانا میز پر رکھ کر دیتے تھے لیکن اب زمین پر رکھ کر دیتے ہیں ،جان بوجھ کر تاکہ مجھے جھکنا پڑے، میں عدالتی تحویل میں ہوں،عدالت نے کہاکہ آپ نے اپنی شکایت مجھے بتا دی،احکامات میرے چلیں گے جب تک عدالتی تحویل میں ہیں ، میں دوران تحویل کوئی غیرانسانی سلوک برداشت نہیں کروں گا، میں نے ڈی جی نیب کو شکایت بھجوائی تو انہوں نے ہدایات جاری کیں ،نیب والوں نے مجھے تکلیف پہنچانے کیلئے یہ سب کچھ کیاجج احتساب عدالت نے کہاکہ غیرانسانی سلوک کسی صورت برداشت نہیں کرونگا،اگرآئندہ ایسا ہواتو نیب کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے، وکیل نیب نے کہاکہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے، کسی کے کہنے پر نہیں قانون کے مطابق چلتا ہے، شہبازشریف نے کہ مجھے جیل میں نہیں بلکہ علیحدہ کمرے میں ڈسپنسری میں رکھاگیاہے،پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ہم نے ان کیخلاف ثبوت جمع کئے ہیں ،عدالت نے کہا کہ میں اگر سرپرائز دورہ کرلوں تو کہاجائے گاجج ملنے چلا گیا، یہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیںان کی عزت لازمی ہے آئندہ شکایت نہ آئے ،پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ہم نے شہبازشریف کو حوالات میں نہیں بلکہ ڈسپنسری میں رکھا ہے ، شہبازشریف نے کہاکہ حلفیہ کہتاہوں 2 روز تک حوالات میں رکھاگیاشکایات کرنے پر ڈسپنسری منتقل کیاگیا،عدالت نے شہبازشریف کو کمرہ عدالت میں وکلا سے ملاقات کی اجازت دیدی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں