9 سال فیس وصول کرنے کے باوجود نمل یونیورسٹی نے طالبہ کی پی ایچ ڈی ڈگری معطل کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) نمل یونیورسٹی کی طالبہ کی پی ایچ ڈی ڈگری معطل کر دی گئی ۔ نمل یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر سفیر اعوان نے صدر پاکستان کا حکم مانے سے انکار کرتے ہوئے طالبہ تحریم بلوچ کی پی ایچ ڈی ڈگری معطل کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق نمل یونیورسٹی کے ڈین

ڈاکٹر سفیر اعوان نے صدر پاکستان کے حکم مانے سے انکار کرتے ہوئے طالبہ تحریم بلوچ کی ڈگری معطل کر دی ۔ ڈگری معطلی کے بعد طالبہ تحریم بلوچ نے صدر پاکستان کو درخواست دے دی اور وکیل صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار حثیب چوہدری کے ساتھ عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہوئیں ۔ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس فیاص انجم جندران نے کی جس پر نمل یونیورسٹی نے اپنے ہی چانسلر صدر پاکستان کا حکم مانے سے انکار کر دیا اور صدر پاکستاں کے حکم مانے کی بجائے صدر پاکستان کے حکم کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن فائل کر دی۔ دوران سماعت حثیب چوہدری ایڈووکیٹ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نمل یونیورسٹی نے 9 سال تک طلبہ سے فیس وصول کی اور اب یہ کس طرح ڈگری معطل کر سکتے ہیں ۔ اسک کے علاوہ نمل یونیورسٹی نے تحریم بلوچ کے ہاسٹل کی الاٹمنٹ بھی منسوخ کر دی ۔جس پر نمل یونیورسٹی کے وکیل نے جوالجواب دینے کے لئے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے نمل یونیورسٹی کے وکیل کو جواب دینے کے لئے ایک اور موقع دے دیا۔ عدالت نے سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں