بہادر ‘ دانشور‘ چالاک اور خوبصورت پاکستانی پیچھے رہ گئے جبکہ بنگالی بدصورت‘ بیوقوف‘ نالائق اور بزدل ہونے کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ۔۔۔۔۔۔ ہم سے کہاں غلطی ہو گئی ؟ جاوید چوہدری کی ایک سبق آموز معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آپ یہ حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے بنگلہ دیش میں کاٹن پیدا نہیں ہوتی لیکن یہ کپاس امپورٹ کر کے 20 بلین ڈالرز کا تیار کپڑا‘ 19 بلین ڈالرز کا دھاگا‘ سوا بلین ڈالرز کے جوتے (جاگرز) اور ایک بلین ڈالرز کی کاٹن ایکسیسریز ایکسپورٹ کرتا ہے جب کہ

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کاغذ اور گرم کپڑے کی ایکسپورٹ 603 ملین ڈالرز‘ مچھلی 532 ملین ڈالرز‘ چمڑا 368 ملین ڈالرز‘ ٹوپیاں 332 ملین ڈالرز‘ کھالیں 140 ملین ڈالرز اور پلاسٹک کی مصنوعات کی ایکسپورٹ 113 ملین ڈالرز ہے‘ یہ بڑی تیزی سے دنیا کے دس بڑے ایکسپورٹرز کی لسٹ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے اور بنگلہ دیش کے فارن ایکس چینج ریزروز بھی39 بلین ڈالرزہیں جب کہ ہمارے ریزروز 19بلین ڈالرز ہیں۔بنگلہ دیش کی کرنسی کا نام ٹکا ہے‘ 1971ء میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے‘ آج ایک ٹکا پاکستان کے اڑھائی روپے کے برابر ہے‘ آج بھارتی اور بنگلہ دیشی کرنسی برابر ہو چکی ہے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں بنگلہ دیش نے یہ ساری معیشت کمائی ہے‘ اس میں کوئی کولیشن سپورٹ فنڈ‘ وار آن ٹیرراور افغان لڑائی والے پیسے شامل نہیں ہیں‘ یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ ہم امریکا‘ عربوں اور چین کے سب سے بڑےوار سپورٹر ہونے کے باوجود کاسہ گدائی لے کر گلی گلی پھر رہے ہیں۔یہ بنگالی کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں ہم جنکے ساتھ ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں ہوتے تھے‘ یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنھیں ہم چھوٹے قدوں‘ تنگ چھاتیوں اور کالی رنگت کی وجہ سے فوج اور پولیس میں بھرتی نہیں کرتے تھے؟ہم جنھیں ویٹرز اور خانساموں سے اوپر اسٹیٹس دینے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ہم جنھیں کنٹرول کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے میجر جنرل اور چیف سیکریٹری بھجوا دیتے تھے

اور وہ وائسرائے بن کر پورے مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرتے تھے‘ ہم جن کے بارے میں کہتے تھے بنگالیوں کو باتھ رومز اور ٹوائلٹس کی کوئی ضرورت نہیں‘ یہ سرکنڈوں کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کر لیتے ہیں اور ہم جن کے لیڈروں کو دھوتی والے بھی کہا کرتے تھے اور انھیں اٹھا کر قید میں پھینک دیتے تھے۔ہم 1971ء تک ان کے بارے میں کہا کرتے تھے، یہ ہم سے الگ رہ کر ایک سال نہیں گزار سکیں گے اور یہ روتے ہوئے ہمارے پاس آئینگے لیکن آج 49 سال بعد بنگلہ دیشی کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ ہم بہادر ‘ دانشور‘ چالاک اور خوبصورت ہونے کے باوجود نیچے سے نیچے جا رہے ہیں جب کہ بنگالی بدصورت‘ بیوقوف‘ نالائق اور بزدل (یہ ہماری اشرافیہ کہا کرتی تھی‘ میری رائے بنگالیوں کے بارے میں بالکل مختلف ہے) ہونے کے باوجود ترقی پر ترقی کرتے جا رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی آبادی 1971ء میں ساڑھے چھ کروڑتھی اور ہم چھ کروڑتھے لیکن آج یہ ساڑھے سولہ کروڑ ہیں اور ہم 22 کروڑہیں یعنی بنگالیوں نے اپنی آبادی تک کنٹرول کر لی اور ہم اپنی آبادی پر بھی قابو نہ پا سکے‘ ہم دھڑادھڑ پھیلتے چلے جا رہے ہیں‘ ہماری شرح خواندگی73سال بعد 60فیصداور بنگلہ دیش کی49سال میں 74فیصد ہو گئی‘ ہم آج بھی مارشل لاء کے خوف کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں‘ اور آپ المیے پر المیہ دیکھئے۔کراچی کے وہ بزنس مین اور صنعتکار جو 1971ء میں جان بچا کر مغربی پاکستان آئے تھے وہ اب بنگلہ دیش میں فیکٹریاں لگا رہے ہیں‘ یہ لوگ آج کے پاکستان سے بھاگ کر سابق پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں‘ ان کی کرکٹ ٹیم بھی ہم سے بہتر ہو چکی ہے‘ یہ عدل وانصاف میں بھی ہم سے آگے ہیں‘ ان کی ٹیکس کولیکشن بھی ہم سے بہتر ہے اور سیاحت بھی‘ یہ جرائم میں بھی ہم سے بہت پیچھے ہیں‘ وہاں ہمارے مقابلے میں مذہبی رواداری بھی کہیں زیادہ ہے اور بنگلہ دیش عالمی سطح پر بھی ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے‘ او آئی سی ہمارے مقابلے میں ان کی بات زیادہ سنتی ہے اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی ان کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔کیوں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا! آخر ہم میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہو گی؟ ہماری اپروچ‘ ہمارے ماڈل میں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہو گی جس کی وجہ سے ہم پیچھے جا رہے ہیں اور کالے کلوٹے بنگالیوں میں کچھ نہ کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے یہ 49 سال میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں‘کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ سوچ سکیں ‘ہم اپنا محاسبہ کر سکیں‘ اگر وہ وقت اب بھی نہیں آیا تو پھر کب آئے گا؟ خدا کے لیے سوچیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں