نواز شریف کو غدار اور وطن دشمن ثابت کرکے تحریک انصاف دراصل کیا کرنا چاہتی ہے ؟ عمران اینڈ کمپنی کی توجہ عوام کے مسائل سے ہٹ کر شریف خاندان پر کیوں مرکوز ہو گئی ؟ تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) قابل غور بات یہ ہے کہ حکومتی حلقے اپوزیشن کو بھول کر صرف نوازشریف کے پیچھے پڑ گئے ہیں بارہ جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل متحدہ اپوزیشن حکومت کے خلاف سرگرم ہے، لیکن وزیر اعظم سمیت تمام وزراء صرف نوازشریف کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔ وہی پرانی باتیں اور

پرانے الزامات دہرائے جا رہے ہیں جو پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں سیاستدانوں پر لگتے رہے ہیں ۔ نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں …… غداری، بھارت سے گٹھ جوڑ، قومی اداروں کے خلاف سازش،اور قومی سلامتی کے خلاف بیانیہ، ان الزامات کے اجزائے ترکیبی ہیں، کیا پہلے ان الزامات سے کوئی فائدہ ہوا ہے جو آج ہوگا۔؟ آج کے حالات تو بہت مختلف ہیں کیا حب الوطنی اور غیر حب الوطنی کا چورن اب بک سکتا ہے؟ سب چیزیں تو سامنے ہیں حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت اپوزیشن کی تحریک کو دبانے کے لئے صرف الزامات پر انحصار کر رہی ہے۔ الزامات تو جذبات کو مزید بھڑکاتے ہیں، سرد تھوڑا کرتے ہیں۔ نجانے وہ کون سی رکاوٹ ہے جس کے باعث حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے ساتھ گفت و شنید کا روزن بند کر دیا گیا ہے۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے تھے، حتیٰ کہ ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے آمر بھی سیاسی قوتوں سے رابطے میں رہے۔ یہ عجیب حکومت ہے کہ جو اپوزیشن سے رابطہ کرتے ہوئے بھی گھبراتی ہے کہ کہیں کوئی الزام نہ لگ جائے۔ یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ اپوزیشن سے رابطہ کیا تو حکومت کا بیانیہ فیل ہو جائے گا۔ این آر او آپ بے شک نہ دیں، مگر جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لئے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش تو کریں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوئی سبیل تو نکالیں، صرف نوازشریف کو غدار کہنے سے تو بات نہیں بنے گی۔ تحریک تو متحدہ اپوزیشن چلا رہی ہے، اسے راضی کرنے کی کوئی کوشش بھی تو ہونی چاہئے۔ یہاں تو سارے دروازے بند کر کے بس حب الوطنی کے درس کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ کیا پوری اپوزیشن اداروں کے خلاف ہے یا غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔؟تحریکیں چلتی ہیں تو نقصان صرف برسر اقتدار حضرات کا ہوتا ہے، کیونکہ اپوزیشن کے پاس تو کھونے کے لئے کچھ ہوتا ہی نہیں معاملہ مذاکرات کی میز سے نکل کر سڑکوں پر چلا جائے تو تپش صرف اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ آج مریم نواز نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ سڑکوں پر آنے کے لئے تیار رہیں، ان کے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، اب ان کی باری ہے، سڑکوں پر تصادم ہوا تو اس نظام کا کیا بنے گا، اسے گرنے سے کون بچائے گا؟ وزیر اعظم بے شک یہ کہتے رہیں کہ جس نے قانون کو ہاتھ میں لیا، اسے قید میں ڈالیں گے، لیکن یہ مسئلے کا حل تو نہیں۔ مسئلے کا حل تو مذاکرات سے ہی نکلے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں