مودی کے یار ، سجن جندال کے بزنس پارٹنر نواز شریف کی لندن کے سفارتخانے میں ہونیوالی خفیہ ملاقاتیں ۔۔۔۔ اندر کھاتے کیا گیم ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ؟ انکشافات سے بھر پور خبر

لاہور(ویب ڈیسک)حکومت نے کہا ہے کہ نیپال میں نواز، مودی کی خفیہ ملاقات کے دوران میاں صاحب بطور وزیر اعظم ملے جس میں دفتر خارجہ شریک نہیں تھا، ہمیں لندن کے ایک سفارتخانے میں ہونیوالی ملاقاتوں کا بھی علم ہے، ہم فوج سے ملکر کام کر سکتےہیں تو ان کو کیا موت پڑی ہے،

کلبھوشن کو پکڑنے پر عاصم باجوہ، نوازشریف کو کھٹکتے ہیں،نواز شریف کی تقریروں سے نقصان کا 10ماہ بعد پتہ چلے گا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کاکہناہےکہ بھارتی بزنس مین جندال کئی بار پاکستان آکربغیر ویزے نواز شریف سے مری میں ملا، وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نےکہاہےکہ ملک مخالف عناصر پاک فوج کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، وزیرہوا بازی غلام سرور نےکہاہےکہ بھارتی ایجنڈے پرکام کرنیوالےناکام ہونگے۔ وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نےکہاہےکہ میاں صاحب گوالمنڈیلا ہیں، نیلسن منڈیلا بننے کی کوشش نہ کریں۔ تفصیلات کےمطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نےکہا ہے کہ فوج ملک کے امن و استحکام اور سلامتی کی ضامن ہے، ہماری فوج ہمیں کوئی صحیح کام کرنے سے نہیں روکتی، اگر ہماری کوئی کوتاہی ہے تواسکا ملبہ فوج پر نہیں ڈالا جا سکتا۔نواز شریف کا ہمیشہ آرمی سے ہی جھگڑارہا کیونکہ فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ملکی مفاد کے خلاف اقدامات پرنوازشریف سے سوال پوچھتا ہے، میں نوازشریف کو ملک دشمن نہیں کہہ رہا بلکہ وہ لالچی بزنس مین ہیں جو پیسے کے لیے را کے ایجنٹ بن جاتے ہیں۔نوازشریف کی تقریر کو ملک دشمن قوتیں اور بھارت آنے والے دنوں میں کس طرح استعمال کرسکتا ہے انہیں اندازہ ہی نہیں، عاصم سلیم باجوہ نوازشریف کو اس لیےکھٹکتے ہیں کہ انہوں نے کلبھوشن کو پکڑاتھا، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ پرجوالزامات لگے اس کا انہوں نے تحریری جواب دیدیا ہے،حکومت ان کے جواب سےمطمئن ہے، کسی کو اعتراض ہے تو عدالت چلا جائے،نوازشریف اداکاری کرتے توزیادہ پیسہ کماسکتے تھے۔

ہفتے کے روز پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ن لیگ سازشی لیگ بن چکی ہے، نواز شریف سے کوئی سیاسی خطرہ نہیں، لیگی قائد کی باتوں سے مستقبل میں پاکستان کو نقصان ہوگا، متنازعہ بیانات ملک دشمن اپنےمذموم مقاصد کیلئے استعمال کریں گے، وہ چاہتے ہیں کہ مالی بدعنوانی پر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے نواز شریف کو مجرم ڈکلیئر کررکھا ہے، لیگی قائد کے بھائی نے 4 ہفتے میں ان کی واپسی کی ضمانت لی تھی اور انہوں نے خود ہی ضمانت کی درخواستیں واپس لیں، شریف فیملی نےپراپیگنڈا کیا کہ حکومت نے ان کی ضمانتیں منسوخ کرا دیں، پیسہ آپ کا پکڑا گیا، جواب بھی آپ کو ہی دینا ہے،(ن)لیگ کے کچھ لوگوں نے چھوٹی موٹی چوریاں کی ہیں لیکن وہ غدار نہیں اور نہ ہی وہ نواز کے فوج کے خلاف بیانیہ کے حق میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرا موقف تھا نواز شریف کو تقریر کی اجازت نہ دی جائے، لیگی قائد کی چند تقاریر ملکی مفاد میں نہیں تھیں، 10 ماہ بعد پتہ چلے گا کہ ان تقریروں کا کیا نقصان ہوا، نواز شریف نے بھارت میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملنے سے انکار کیا، لیگی قائدکو جندال سے ملاقات کا جواب دینا ہوگا، کیا پاکستان کا کوئی بزنس مین بھارت جا کر ان کے وزیراعظم سے مل سکتا ہے ، یہ ٹبر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کےلیے کام کرتا ہے۔شہباز گل نے کہا کہ نواز شریف آج جمہوریت کے چیمپئن بن رہے ہیں، ڈان لیکس پر غصہ آیا تو پرویز رشید کو فارغ کر دیا، تسنیم اسلم کو بھارت کیخلاف بیانات سے منع کیا گیا، نواز شریف اداروں کو الزام دینا بند کر یںاور اثاثوں کا جواب دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں