کیا پاکستان واقعی بڑی مصیبت سے بچ گیا۔۔؟؟؟ وطن عزیز کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کے حوالے سے اہم حقائق سامنے رکھ دیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں جس قسم کا منظر نامہ ہے، مختلف حصوں میں، مختلف علاقوں میں جو بنیادی تعصبات، تصورات اور رجحانات ہیں، اُن کی موجودگی میں کسی ایک سمت والے فکری انقلاب کا کوئی امکان نہیں ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی بات تو ہوتی ہے لیکن اِس کے لئے جو خمیر اور ضمیر مطلوب ہے

وہ نظر نہیں آتا۔نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ انقلاب ہر علاقے میں الگ الگ سمت اختیار کر سکتا ہے۔ پنجاب، جنوبی پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں وکشمیر کے غریبوں، مڈل کلاسیوں، کاشتکاروں، مزدوروں، کارکنوں اور چھوٹے سرکاری ملازموں کے مسائل اور پریشانیاں ایک سی ہیں مگر ان کو کبھی قریب نہیں آنے دیا جاتا۔ سب اپنی اپنی جگہ دوسرے صوبوں کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ یہ فکری رجحانات تو روزِ اوّل سے چلے آرہے ہیں۔ اس لئے ذہنی طور پر ہم ایک قوم نہیں بن پائے لیکن مجھے وزیراعظم کے ایک جملے نے ہلاکر رکھ دیا۔ میں انتہائی ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوں۔ میں نے آج کے لئے موضوع کچھ اور منتخب کر رکھا تھا۔ اِسے آئندہ کے لئے ملتوی کرکے میں اس خطرناک انکشاف کا پس منظر جاننا چاہتا ہوں۔ میری طرح میری نسل کے لوگوں نے اور دردمندوں نے بھی یقیناً اس جملے کے مضمرات کو محسوس کیا ہوگا۔ وزیر اعظم نے اپنے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں فرمایا ہے:’’خدا کے واسطے آنکھیں کھولو، فوج بدل چکی ہے، اگر آج ہماری فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکرے ہو جاتے‘‘۔اتنی بڑی بات اُنہوں نے بڑے وثوق سے کہہ دی ہے۔ اب 22کروڑ پاکستانی اس کا سیاق و سباق ڈھونڈ رہے ہیں، عرصے کا تعین کرنا چاہتے ہیں، کونسے عناصر تین ٹکڑے کرنا چاہتے تھے۔ ہم سب بھیگی پلکوں، جھکے سر کے ساتھ 1971کو یاد کرتے ہیں۔ جب ملک دو لخت ہو گیا۔ تاریخِ اسلام میں اتنے بڑے پیمانے پر

ہتھیار ڈالنے کا سانحہ ہوا۔ جو اکثریت میں تھے، پاکستان بنانے میں جن کا ہم سے زیادہ حصہ تھا، وہ پاکستان کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ اس طرف اشارہ نہیں ہوگا، یہ تو 1971کے بعد کے پاکستان کا کوئی خطرناک موڑ تھا، جب پاکستان تین ٹکڑے ہونے سے بچ گیا۔ وزیراعظم نے اچھا کیا کہ اس طرف اشارہ کیا مگر اس بدقسمت قوم کو یہ تو بتائیں کہ یہ کب کا واقعہ ہے اور یہ تین ٹکڑے کرنے کی سازش کس کی تھی۔اب یقیناً ہماری فوج 1971کے مقابلے میں تعداد میں بھی زیادہ ہے، دفاعی ساز وسامان کی کفالت بھی ہے، جدید ترین طیارے ہیں، تربیت ہے، ایٹمی ڈھال بھی ہے، اس کی حکمت عملی کی ساری دنیا تعریف کرتی ہے۔ مختلف امن مشنوں میں پاکستانی فوج کا کردار لائق تحسین رہا ہے۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس وقت ملک کے کسی حصے میں بھی علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے۔ بلوچستان میں اپنے حقوق کے لئے شکایتیں موجود ہیں مگر وہ اپنے حقوق، اپنے اختیارات، اسی جغرافیائی انتظام میں چاہتے ہیں۔ سندھ، پنجاب، کے پی، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کہیں بھی مشرقی پاکستان کی طرح کوئی مسلح تحریک نہیں چل رہی ہے۔بدامنی پر بڑی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے اتنے اعتماد اور یقین سے بات کی ہے تو قوم کو یہ بھی بتائیں کہ فوج نے جس ہونی کو روکا ہے، یہ سازش کیا بین الاقوامی، علاقائی یا اندرونی تھی؟ اس کے سرکردہ عناصر کون سے تھے؟ اب وہ سرکش عناصر کہاں ہیں؟ ’’تین ٹکڑے‘‘ کی ترکیب کی جغرافیائی تفصیل بھی بیان کریں۔ ان ٹکڑوں کی بنیاد کن سوچوں، تحریکوں اور سیاسی عوامل پر رکھی گئی تھی؟ یہ تفصیلات معلوم ہونے کے بعد یقیناً وزیراعظم کی، اداروں کی قدر قوم کی نگاہوں میں اور بڑھ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں