بریکنگ نیوز: امریکی صدر ٹرمپ کی طبیعت انتہائی خراب ۔۔۔اگلے 24 گھنٹوں میں کیا کچھ ہو سکتا ہے ؟ تازہ ترین احوال موصول

واشنگٹن (ویب ڈیسک) کورونا وائرس میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طبیعت سے متعلق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے۔وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز کے مطابق صدر پچھلے24 گھنٹوں کے دوران انتہائی تشویشناک صورتحال سے گزرے تاہم

یہ واضح نہیں کہ صدر کی طبیعت مکمل بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپتال سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں تاہم کورونا سے ریکوری کے لیے آئندہ چند روز اصل امتحان ہے۔ویڈیو بیان میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد انتخابی مہم میں واپس آئیں گے۔ڈاکٹروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ہفتہ کو بخار نہیں تھا، انہیں ریمڈیسویر دوا بھی دی گئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو جمعہ کو اسپتال منتقل کرنے سے پہلے آکسیجن لگانا پڑی تھی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق کچھ روز قبل بابا وانگا کے ایک پیروکار یا شاگرد نے بتایا ہے کہ بابا وانگا نے اپنی وفات سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کے خوفناک بیماریوں کا شکار ہونے کی پیشگوئی کی تھی ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بابا وانگا 1996 میں فوت ہو گئی تھیں۔ بابا وانگا ریت کے ایک طوفان میں اپنی آنکھوں سے محروم ہو گئی تھی اور اسی وجہ سے ان کی تیسری آنکھ روشن ہو گئی تھیں اور انہیں آنیوالے وقت کے واقعات نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔ انہوں نے 1989 ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حادثہ کی پیش گوئی ان الفاظ میں کی تھی ’’ڈر ٗ ڈر ۔ امریکہ کے بھائی لوہے کے پرندے کے ٹکرانے کے بعد زمین بوس ہو جائیں گے‘ بھیڑئیے جھاڑیوں میں چیخ و پکار کریں گے اور معصوموں کی جانیں ضائع ہونگی ‘۔ بابا وانگا نے زندگی بھر کبھی اپنی کوئی پیش گوئی نہیں لکھی بلکہ انہیں بلغاریہ کی عوام اور حکومت کی طرف سے بہت پروٹوکول دیا جاتا تھا۔حکومت کی طرف سے ایک مستقل سٹاف ان کی پیش گوئی لکھا کرتا تھا اورجو لوگ ان سے مشورہ لینے آتے تھے ان کی مدد کیا کرتا تھا۔ بابا وانگا کی بہت سی پیش گوئی ٹھیک بھی نہیں ہو سکی تھیں جیسا کہ انہوں نے 2010 سے 2014 کے دوران ایٹمی وار کی پیش گوئی کی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں