دورجاہلیت میں مرد اپنے گھر میں کس کس عورت کے ساتھ رجوع کرنے کا مکمل اختیار رکھتا تھا اور کس کے ساتھ طلاق دینے کے بعد بھی رجوع کر سکتا تھا؟ شریعت کیا کہتی ہے ؟ جانیے

ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ :”اے نبی(اپنی امت سے کہو کہ)جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہوتو ان کی عدت(کے دنوں کے آغاز )میں انہیں طلاق دواور عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالوں ۔ اور نہ

وہ خود نکلیں ۔ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کربیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے “۔(سورہ الطّلاق آیات ا)اس آیت مبارکہ میں دو مرتبہ لفظ طلاق آیا ہے یہ خالص عربی لفظ ہے اور اس کا مادہ طلق ہے ۔جس کے معنی دینا،عطا کرنا اور اپنی منکوحہ یعنی بیوی کو اپنے سے جدا کرنا ہے ۔یہ اسلام کے عائلی قوانین کا ایک اہم حصہ ہے ۔دورجاہلیت کے عربوں کے ہاں صرف مرد کو یہ ایک طرفہ حق حاصل تھا کہ وہ جب چاہتا عقدازواج کو ختم کر دیتا اور جب چاہتا رجوع بھی کر لیتا تھا ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک مرد اپنی بیوی کو 100مرتبہ بھی طلاق دیدیتا تھا۔جب بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن حکیم کا نزول ہوا اور اس طرح کے فرسودہ قسم کے مروجہ اصولوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ چنانچہ قرآن حکیم میں4سورتوں کی 21آیات میں تفصیل سے اس کا ذکر آیا ہے اس میں سورہ بقرہ کی 9آیات ،سورہ النساء 4آیات ،سورہ احزب 1اور سورہ طلا ق میں 7آیات شامل ہیں۔جبکہ مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس موضوع پر ایک مکمل سورہ طلاق کا نزول ہوا۔ان آیات میں طلاق کے ایسے ضوابط مقرر کئے ہیں جو اس اقدام کے ہر پہلو پر حاوی

ہیں ان آیات کے نزول کے مقاصددو نظر آتے ہیں ایک تویہ کہ مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اسے استعمال کرنے کے ایسے حکیمانہ طریقے بتائے جائیں جن سے حتیٰ الامکان علیحدگی کی نوبت نہ آنے پائے اور اگر ہوبھی توبدرجہ آخر ایسی حالت میں ہو جبکہ باہمی موافقت کے تمام امکانات معدوم ہو چکے ہوں کیونکہ شریعت میں طلاق کی گنجائش صرف ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر رکھی گئی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے کہ ایک مرد ایک عورت کے درمیان جو ازدواجی تعلق قائم ہو چکاہے اس کا خاتمہ ہو جائے چنانچہ ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے ترجمہ:”اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا ہے جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو“۔ (ابوداؤد) دوسرا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورہ بقرہ کے احکام کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دے کر اسلام کے عائلی قانون کے اس شعبے کی تکمیل کر دی جائے۔حضرت عبداللہ ابن مسعور ضی اللہ عنہ نے ایک جگہ یہ صراحت فرمائی ہے کہ اس سورہ کے مضمون کی اندرونی شہادت یہی ظاہر کرتی ہے کہ سورہ مبارکہ الطّلاق کا نزول لازماً سورہ بقرہ کی ان آیات کے بعد ہوا ہے جن میں طلاق کے احکام پہلی مرتبہ دےئے گئے تھے روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب سورہ بقرہ کے احکام کو سمجھنے میں لوگ غلطیاں کرنے لگے اور عملاً بھی ان سے غلطیوں کو صدور ہونے لگا

تب اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کیلئے مزید یہ ہدایات نازل فرمائیں۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مقام پر سورہ طلاق کو سورہ النساء القصریٰ بھی کہا ہے ۔یعنی چھوٹی سورہ النساء۔سورہ مبارکہ میں ابتدا سے ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے احکامت دےئے جارہے ہیں یہ احکام اصل میں تو امت کو دےئے جارہے ہیں اس کے ابتدائی الفاظ میں طلاق دینے کے طریقے بتائے جارہے ہیں فرمایا ترجمہ:”جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کیلئے طلاق دیا کرو“۔یہ اکثر مشاہدہ میں آیا ہے کہ جہاں کچھ ناچاقی ہوئی مرد حضرات جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غصے میں فوراً ہی طلاق دیدتے ہیں اور پھر رجوع کی گنجائش نہیں چھوڑتے ۔عدت کیلئے طلاق دینے کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ عورت کو حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے کیونکہ اس کی عدت اس حیض سے شروع نہیں ہو سکتی جس حیض میں اسے طلاق دی گئی ہو اس حالت میں طلاق دینے کے معنی یہ ہو جاتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے خلاف عدت کی مدت تین حیض کے بجائے چار حیض بن جائیں اس کے علاوہ اس حکم کا ایک اور تقاضہ یہ بھی ہے کہ عورت کو اس طہر (پاکیزگی کی حالت)میں طلاق نہ دی جائے جس میں شوہر اس سے مباشرت کر چکا ہو کیونکہ اس صورت میں طلاق دیتے وقت شوہر یا بیوی دونوں میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ مباشرت کے نتیجے میں کوئی حمل قرار

پا گیا ہے یا نہیں ۔لہٰذا آیت کے سیاق وسباق سے یہی منشاء نکلتا ہے کہ اول حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے دوم حالت طہر جس میں مباشرت ہو چکی ہو۔تفہیم القرآن میں لکھا ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق نہ دینے کی مصلحت یہ ہے کہ یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں مردوزن کے درمیان مبا شرت ممنوع ہونے کی وجہ سے ایک طرح کا بعد پیدا ہوجاتا ہے اور طبی حیثیت سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ اس حالت میں عورت کا مزاج معمول پر نہیں رہتا اس لئے اگر اس وقت دونوں میں کوئی جھگڑا ہو جائے تو دونوں اسے رفع کرنے کیلئے بے بس ہوتے ہیں اور جھگڑے سے طلاق تک نوبت پہنچانے کے بجائے عورت کے حیض سے فارغ ہونے تک کا انتظار کر لیا جائے تو اس امر کا کافی امکان ہوتاہے کہ عوت کا مزاج بھی معمول پر آجائے اور دونوں کے درمیان فطرت نے جو کشش رکھی ہے مصلحت یہ ہے کہ اس زمانے میں حمل قرار پا جائے تو مردو عورت دونوں کو علم نہیں ہو سکتا اس لئے وہ وقت طلاق دینے کیلئے موزوں نہیں ہے ۔حمل کا علم ہو جانے کے بعدمرد بھی دس مرتبہ سوچے گا کہ اسے طلاق دے یا نہ دے اور عورت بھی یہ سوچ کر اپنے شوہر کی ناراضگی کے اسباب دور کرنے کی کوشش کرے گی۔اور بے سوچے سمجھے اندھیرے میں تیر چلانے سے اگر حمل کا معلوم ہو جائے تو بعد میں دونوں کو پچھتانا پرے گا۔(سورہ طلاق،تفہیم

القرآن جلد5)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس لکھتے ہیں کہ طلاق حیض کی حالت میں نہ دی جائے اور نہ اس طہر میں دے جس میں مباشرت ہو چکی ہو۔بلکہ اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے فارغ ہو جائے۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عدت کیلئے طلاق یہ ہے ”طہر کی حالت میں مباشرت کئے بغیر طلاق دی جائے۔یہی تفسیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کی ہے ۔(ابن کثیر)حضرت حسن بصری اور ابن سیرین دونوں فرماتے ہیں ”طہر کی حالت میں مباشرت کئے بغیر طلاق دی جائے یا پھر اس حالت میں کہ جب حمل ظاہر ہو جائے“۔(ابن جریر)۔اس آیت مبارکہ کی شان نزول میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو طلاق دیدی وہ اپنے میکے آگئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیاکہ ان سے رجوع کرلووہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں وہ یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر ۔ابن جریر)یہ دوسرا واقعہ بھی کتب احادیث میں ملتا ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی یہ واقعی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر بیان کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض

ہوئے اور فرمایا اسے چاہیے کہ رجوع کرلے پھر حیض سے پاک ہونے کے بعد روکے رکھے پھر دوسرا حیض آئے اس سے نہالیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات کرنے سے پہلے یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے ۔(صحیح بخاری)حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔عدت سے مراد طہر ہے ۔تفسیر ابن کثیر میں طلاق کی دوقسمیں لکھی ہیں۔(۱)طلاق سنت(۲)طلاق بدعت۔حنفی علمائے کرام نے طلاق کی تین قسمیں بتائی ہیں(۱)احسن یا طلاق سنت اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتایا گیا ہے یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کئے بغیر ایک طلاق دی جائے اور عدت گزارنے دی جائے (۲)طلاق بدعی۔حیض کی حالت میں یا طہر میں ایک طلاق دے اس صورت میں تین طلا ق دینا خلاف سنت نہیں ہے اگر چہ بہتر یہی ہے کہ ایک طلاق دے کر عدت گزارنے دی جائے ۔علمائے کرام اس پر متفق ہیں کہ حیض کے دوران دی گئی طلاق بدعی ہونے کے باوجود بھی واقع ہو جائے گی ۔زیر نظر مضمون میں سورہ طلاق کی پہلی آیت کے بھی پہلے حصے سے استفادہ کیا گیا ہے ۔جس میں صرف طلاق دینے کا طریقہ بیان ہوا ہے ۔جبکہ اگلی آیات میں طلاق،عدت اور رضاعت کے مسائل بیان ہوئے ہیں جس پر امام ابو بکر الجماص نے تفصیل سے بحث کی ہے اور قاضی ابوبکر ابن العربی نے اس سورہ کی 5آیات سے 44کے قریب مختلف شرعی احکام اور فقہی مسائل کا استنباط کیا ہے ۔اس سورت کے بارے میں ایک خوبصورت روایت لکھی ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم نے فرمایا کہ جس نے سورہ طلاق کی تلاوت کی وہ سنت رسول پر فوت ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں