سیاسی رومانس قائم نہ رہ سکا لیکن یادیں تو باقی ہیں ۔۔۔!!!بلاول بھٹو نے پارٹی آفس میں لگی کونسی تصویر اتارنے سے منع کردیا؟ جان کر سب کے لیے یقین کرنا مشکل

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ماڈل ٹائون لاہور میں واقع پارٹی کے پنجاب آفس میں لگی شاہ محمود قریشی کی تصویر ہٹانے سے منع کر دیا ۔پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے صحافیوں کو بتایا کہ دفتر میں لگی سابق صوبائی صدور کی تصاویر میں شاہ محمود قریشی

کی تصویر بھی ہے.ہماری تجویز تھی کہ جو رہنما پارٹی چھوڑ گئے ان کے تصویریں اتار دیں لیکن چیئرمین بلاول بھٹو نے منع کر دیا کہ تصویروں کو اتارا نہ جائے، یہ ہسٹری ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اے پی سی میں جو پہلی تقریر کی تھی اس کی اجازت دو ملکوں نے دی گئی تھی۔۔نواز شریف نے اداروں کو ٹارگٹ کرنے سے پہلے دو ممالک سے اجازت لی تھی کہ میں ان اداروں کو ٹارگٹ کرنے لگا۔برطانیہ نے نواز شریف کو گارنٹی دی تھی کہ آپ کو ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔نواز شریف کو یقین دہانی کروائی گئی کہ حکومتِ پاکستان چاہے جنتی مرضی کوشش کر لے آپ کو واپس نہیں بھجوایا جائے گا۔ان تمام معاملات میں ایک اور ملک نے بھی اہم کردار ادا کیا جن سے نواز شریف کی باقاعدہ میٹنگ بھی ہوئی۔یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ سے چل رہا تھا،محمد زبیر کی ملاقات ناکام رہی اور انہیں این آر او نہیں ملا تو نواز شریف نے دیگر ممالک سے رابطے شروع کیے۔ایک ملک کا تو میں نام بھی نہیں لینا چاہتا جس نے ایم آئی 6 سے رابطہ کیا۔اس کے بعد باتیں فائنل ہوئیں اور نواز شریف نے جارحانہ انداز میں اے پی سی سے خطاب کیا۔دوسری جانب برطانوی حکومت نے نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروانے سے انکار کردیا، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جمعرات کو بھی ہائی کمیشن کے دوعہدے دار ڈن ریون اسٹریٹ پر10منٹ تک انتظار کرتے رہے۔لیکن ہائی کمیشن کے عہدیدار ایون فیلڈ کے استقبالیہ پر پہنچے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ دفتر خارجہ کے توسط سے برطانوی حکومت سے وارنٹس کی تعمیل میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ جس پر برطانوی حکومت نے کہا کہ وہ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرےگی۔ وارنٹس کی تعمیل ان کا کام ہے نہ ہی مینڈیٹ ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن کے پاس نوازشریف کے وارنٹ کی تعمیل کے محدود آپشن ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن رائل میل یا اپنےعملے کے ذریعے وارنٹس کی تعمیل کرا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نوازشریف پرانحصار ہوگا کہ وہ رضاکارانہ طور پر دستخط کریں۔ پاکستانی ہائی کمیشن اس صورتحال سےاسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کرچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں