مولانا فضل الرحمٰن کے معتمد خاص موسیٰ خان دراصل کون ہیں ؟ وہ کیسے کچھ عرصہ میں فاریسٹ گارڈ سے کروڑ پتی بن گئے؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کے نمائندے کو مقامی سطح پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے ایسے کچھ شواہد نہیں ملے ما سوائے اس کے کہ موسیٰ خان کا بیٹا مولانا فضل الرحمان کا سیکریٹری ہے۔ سینیئر مقامی صحافی اور کالم نویس اسلم اعوان کا کہنا ہے کہ سرکاری نوکری کے بعد

نامور صحافی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ موسیٰ خان نے جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اس کے بعد وہ تحصیل پہاڑپور میں جماعت کے امیر مقرر ہوئے۔موسیٰ خان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کی تعلیم ایف اے ہے۔ موسیٰ خان فارسٹ گارڈ بھرتی ہوئے تھے اور ترقی کر کے ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔ پہاڑپور تحصیل کے گاؤں ڈھکی کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد زمیندار تھے۔اسلم اعوان نے کہا کہ موسیٰ خان کی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ نظریاتی لگاؤ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان اس سطح پر کوئی ایسے تعلقات رکھتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ موسیٰ خان حقیقی معنوں میں فارسٹر تھے اور انھوں نے جنگلات کے لیے کافی کام کیا ہے جن میں انھوں نے مردان میں بہت کام کیا اور بلین ٹری سونامی کے لیے کام کیا تھا۔ اسلم اعوان نے بتایا کہ موسیٰ خان نے خیبر پختونخوا کے دریائے سندھ کے قریب 400 کنال زمین واگزار کرائی تھی جس پر ’عمران خان نے بھی تعریف کی تھی‘۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موسیٰ خان کے خلاف نیب کی کارروائی اے پی سی سے پہلے شروع کر دی گئی تھی لیکن اس میں کوئی زیادہ بدعنوانی کے شواہد نہیں ملے لیکن ان کی گرفتاری اے پی سی کے بعد ہوئی ہے جس وجہ سے موسیٰ خان کی گرفتاری کو زیادہ کوریج حاصل ہوئی ہے۔بظاہر تو اب تک سرکاری سطح پر کچھ ایسا نہیں بتایا جا رہا

کہ آمدن سے زیادہ اثاثے کیا ہیں اور ان کی مالیت کتنی ہے لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب کو کچھ ایسی دستاویز ملی ہیں جن میں ان کے اثاثوں کی تفصیل ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان میں مبینہ طور پر کوئی لگ بھگ 190 کنال زمین ہے جو تحصیل پہاڑپور کے قریب ڈھکی، ڈیرہ اسماعیل خان اور راجن پور میں ہے اور اس کے علاوہ ایک کرش مشین ہے جو بظاہر ان کے بھتیجے کے نام پر ہے۔ اس کرش مشین کی مالیت کوئی 30 ملین روپے تک بتائی گئی ہے اور اس کے ساتھ لوڈر اور دیگر گاڑیاں بھی ہیں۔اس کے علاوہ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر ایک ریسٹ ہاؤس ہے جو سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اور بلین ٹری سونامی منصوبے میں پودوں کی خریداری میں خرد برد کا الزام ہے۔ ان میں ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر نرسریوں سے جس قیمت میں پودے خریدے گئے اور دستاویزات میں جو رقم درج کی گئی اس میں تضاد پایا گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی کچھ الزامات ہیں جن کے دستاویزات موجود نہیں ہیں یا ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کن کی ملکیت ہیں۔ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ان کے قریبی سرکاری اہلکاروں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ان پر ایک الزام سرکاری نوکری میں اپنے قریبی رشتہ دار کو تعینات کرنا ہے اور اس سیلیکشن کمیٹی میں یہ خود موجود تھے اس بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں