عمران خان کو بہت بڑی شکست کا سامنا! برطانیہ نے نواز شریف کی حوالگی کا مطالبہ مسترد کر دیا، (ن) لیگ جو چاہتی تھی وہ ہوگیا

لندن (نیوز ڈیسک ) برطانوی حکومت نے نوازشریف کے وارنٹ کی تعمیل کروانے سے انکار کردیا، برطانوی حکام نے کہا کہ وارنٹس کی تعمیل کروانا ان کا کام نہیں ہے، پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز جمعرات کو بھی ہائی کمیشن کے دوعہدے دار ڈن ریون اسٹریٹ

پر10منٹ تک انتظار کرتے رہے۔لیکن ہائی کمیشن کے عہدیدار ایون فیلڈ کے استقبالیہ پر پہنچے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ دفتر خارجہ کے توسط سے برطانوی حکومت سے وارنٹس کی تعمیل میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ جس پر برطانوی حکومت نے کہا کہ وہ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرےگی۔ وارنٹس کی تعمیل ان کا کام ہے نہ ہی مینڈیٹ ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن کے پاس نوازشریف کے وارنٹ کی تعمیل کے محدود آپشن ہیں۔پاکستانی ہائی کمیشن رائل میل یا اپنےعملے کے ذریعے وارنٹس کی تعمیل کرا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نوازشریف پرانحصار ہوگا کہ وہ رضاکارانہ طور پر دستخط کریں۔ پاکستانی ہائی کمیشن اس صورتحال سےاسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کرچکا ہے۔ دوسری جانب پیمرا کی جانب سے نو،ز چینلز پر اشتہاری اور مفرور مجرموں کے انٹرویو اور عوامی خطاب پر پابندی لگائے جانے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیم نے پیمرا حکم نامے کا نوٹس لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیمرا کا یہ اقدام آزادی اظہار رائے سے متعلق آئین کی خلاف ورزی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ نوازشریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی کا حکمنامہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق پیمرا کی جانب سے نوازشریف کے خطاب یا بیان دکھانے پر پابندی کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ پیمرا کا یہ اقدام افراد کے جاننے کے حق کو

سلب کرتا ہے۔ایسے حکم نامے صوابدیدی سنسر شپ کی عکاسی کرتے ہیں۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ پریس ماضی سے بھی آزاد ہے۔ کیا یہ آزادی ہے؟ حکومت سنسر شپ کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے۔ نوازشریف نے 2018 الیکشن کے بارے سوالات اٹھائے۔ کیا عوام کو یہ سوالات جاننے کا حق نہیں ہے؟ پیمرا کے اس اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ پیمرا آزاد ریگولیٹری باڈی نہیں بلکہ سیاسی سہولت کار ہے۔ ایچ آر سی پی کے اعلامیے کہا گیا کہ پیمرا نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیانات پر کبھی پابندی نہیں لگائی، وہ بھی ایک اشتہاری مجرم ہیں۔اعلامیے کے مطابق پیمرا کا یہ حکم نامہ نواز شریف کے اپوزیشن کے اجلاس سے خطاب کے بعد کیا گیا۔ ایچ آر سی پی نے پاکستان میں سنسر شپ کی نشاندہی کی ہے۔ واضح رہے کہ پیمرا نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کےخطاب، بیان یا کسی بھی قسم کے انٹرویو کو ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کی تھی۔ پیمرا نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ٹی وی چینلز کسی بھی اشتہاری مجرم کی کوئی تقریر نشر نہیں کریں گے۔ پیمرا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جو ٹی وی چینل اس حکمنامے کی خلاف ورزی کرے گا اس کا لائسنس معطل کردیا جائے گا۔یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سیاسی قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا۔ جس میں حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز کو وطن واپس لانے کیلئے تمام چینلز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت کی مدد سے نوازشریف کو واپس لائیں گے، نوازشریف کو وطن واپس آکر عدالتوں کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ نوازشریف کی وطن واپسی کیلئے تمام قانونی آپشنز استعمال کریں گے۔ نوازشریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگے ہیں۔ کرپشن کیسز پر کسی کو معافی ملے گی ، نہ ہی این آراو نہیں دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں