1959 میں ایجاد کی گئی باربی ڈول کی کمر کا سائز پہلے 18 انچ تھا مگر بعد میں باربی کی کمر کا سائز بڑھا کیوں دیا گیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سب سے پہلی بار بی جو 1959ء میں مارکیٹ لائی گئی اس نے سیاہ اور سفید دھاریوں والا تیراکی کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کا جسم ایک جوان عورت کا تھا جسے ”Adult figured doll” کہتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی یا لڑکا بڑے ہو کر کسی ساحل سمندر یا

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سوئمنگ پول میں خواتین کو ایسے لباس میں دیکھے تو اسے کوئی حیرت نہ ہوگی کیونکہ ایسی عریانی سے تو وہ بچپن میں کھیلتے تھے۔ عورتوں کے لیے جسمانی آئیڈیل یا رول ماڈل تخلیق کرنے کے لیے سٹینڈرڈ باربی 11.5 انچ کی ہوتی ہے جسکو 1/6 کی سکیل سے دیکھا جائے تو ایک جوان لڑکی کو خوبصورت ہونے کے لیے 5 فٹ نو انچ قد آور ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس کی دیگر پیمائشوں کے مطابق کمر 18انچ پتلی ہونی چاہیے۔ چونکہ ایسا جسم لڑکیوں نے آئیڈیل سمجھنا شروع کر دیا تھا اسی لئے اس کے فوائد اور نقصانات پر طب کی دنیا میں تحقیق شروع ہوگئی۔ فن لینڈ کی ہیلنسکی یونیورسٹی کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر باربی کا آئیڈیل تناسب حاصل کیا جائے تو عورتوں کو جسم سے 22 فیصد چربی کم کرنا ہوگی جو انکے نسوانی وظائف (Female Function) کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ یوں 1997ء میں اسکی کمر کے سائز کو بڑا کر دیا گیا۔ ”باربی” نے خواتین میں مخصوص جسمانی ساخت کے حصول کا ایک جنون پیدا کردیا اور 1963ء میں اس ساخت کی ترغیب کیلئے باربی نے اپنا لٹریچر شائع کرنا شروع کیا جس کی پہلی کتاب ”How to lose weight” یعنی ”وزن کیسے کم کریں”، تھی۔اسی کتاب کا ایک اور ایڈیشن ”Slumber Party”، 1965ء میں آیا جس میں باربی جیسی جسمانی ساخت حاصل کرنے کی تراکیب درج تھیں۔ باربی نے مارچ 2018ء میں اپنی رول ماڈل مہم کا آغاز کیا۔ اس نے 17 کامیاب خواتین کی

باربی بنائیں جنہیں Heros نہیں بلکہ Sheros کہا گیا۔ ”باربی” اب سفید فام، گندمی، پیلی اور کالی رنگت میں اسی جسمانی تناسب میں دستیاب ہے۔ باربی آپکو ہر اس کردار میں ملے گی جسے جدید کارپوریٹ تہذیب نے اپنی ضرورت کے لیے تراشا ہے۔ وہ خلا باز، اولمپک اتھلیٹ، ٹی وی رپورٹر، راک سٹار، ڈاکٹر، آرمی افیسر، ائر فورس پائلٹ، موسیقار، لائف گارڈ، سکوبا ڈائیور، بیس بال کھلاڑی، سفارتکار، غرض لاتعداد شعبہ ہائے زندگی کی ”باربی” آج کی خاتون کے لیے رول ماڈل کے طور پر میسر ہیں۔ لیکن کمال دیکھئے یہ عورتیں ڈاکٹر ہوں یا موسیقار، ٹی وی رپورٹر ہویا سفارتکار انکی جسمانی ساخت اور آئیڈیل تناسب پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے۔ کوئی بدصورت جسم والی خاتون ایک کامیاب رول ماڈل میں نہیں ڈھل سکتی۔ اس بیچاری خاتون کو اسی جسم کی نمائش میں الجھا کر اسے کارپوریٹ دنیا کا گھنٹہ گھر بنادیا گیا ہے۔ اسکی جسمانی خوبصورتی کے گردکارپوریٹ انڈسٹری کا پہیہ گھومتا ہے۔ حسینہ عالم کے اسٹیج سے لے کر اشتہارات کی دنیا تک یہ بیچاری عورت ہے جسے اسکی صلاحیت سے زیادہ اسکی ظاہری خوبصورتی کی بنیاد پر تولا، پرکھا اور ناپا جاتا ہے۔ یہ جدید تہذیب ایک تماشہ گاہ ہے، عبرت کی دنیا ہے جس میں چند سالوں کی بچی کے ہاتھ میں ایک جوان عورت کا مجسمہ ایک باربی گڑیا کی صورت پکڑا کر اسے زندگی بھر کے لئے ایک ایسی دوڑ میں لگا دیا جاتا ہے جو موت تک جاری رہتی ہے۔ اس تھکا دینے والی زندگی میں اسے روز لوگوں کی نظروں میں زندہ رہنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ روز جینا اور روز مرنا پڑتا ہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں