تیزگام ٹرین حادثہ: انکوئری پر انکوائری کے باوجود حقائق کیوں معلوم نہیں ہو سکے ؟ ہوش اڑا دینے والی تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک) تیزگام حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے بنائی گئی اے جی ایم کمیٹی کیجانب سے رپورٹ مرتب، اے جی ایم کی رپورٹ کے بعد بھی تیزگام حادثے کی گتھی نہ سلجھ سکی۔ تین اے جی ایم کی کمیٹی کے بھی دوست علی لغاری کی انکوائری رپورٹ پر تحفظات، گزشتہ برس اکتوبر میں آتشزدگی واقعے میں جاں بحق ہونے والے 70سےزائد افراد تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔

تیزگام حادثے کی اصل وجوہات کیا ہیں، سال ہوگیا معمہ حل نہ ہو سکا، فیڈرل گورنمنٹ انسپیکٹر آف ریلویز کی حادثے سے متعلق رخورٹ متنازعہ ہونے پر وزیر ریلوے شیخ رشید نے تینوں اے جی ایم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ شیخ رشید کی بنائی گئی اے جی ایم کمیٹی نے بھی رپورٹ مرتب کرلی۔اے جی ایم کی رپورٹ کے بعد بھی تیزگام حادثے کی گتھی نہ سلجھ سکی۔ذرائع کے مطابق تین اے جی ایم کی کمیٹی کے بھی دوست علی لغاری کی انکوائری رپورٹ پر تحفظات ظاہرکر دئیے، اے جی ایم کمیٹی کیجانب سے سفارشات مرتب کرکے چیئرمین ریلوے کو ارسال کر دی، ارسال کی گئی رپورٹ کے مطابق ریلوے آئین کے مطابق ایف جی آئی آر کی انکوائری کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔وزارت ریلوے کی ہدایت پر بنی اے جی ایم کمیٹی نے رپورٹ کا مشاہدہ کیا، عینی شاہدین اور ثبوت سے حادثے کی وجہ سلنڈر پھٹنا ہی ہے۔ جبکہ ایف جی آئی آر کی انکوائری رپورٹ میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔ایف جی آئی آر کو رپورٹ سی ای او کو بھیجنا ہوتی ہے جو نہیں بھیجی گئی اور ٹیکنیکل معاملے پر ایف جی آئی آر کی رہنمائی کے لیے ایکسپرٹ کی خدمات لی جاتیں ہیں جو کہ نہیں لی گئیں۔قانون کے مطابق آگ آگے سے پیچھے جاتی ہے مگر رپورٹ میں آگ کو پیچھے سے آگے بتایا گیا ہے لیکن ایف جی آئی آر رپورٹ میں آگ کی وجوہات غیر قانونی لگی الیکٹرک وائر کے شارٹ سرکٹ کو بتایا گیا۔ اے جی ایم رپورٹ کے مطابق اصولا 5ایمپائر سوئچ پر الیکٹرک کیٹل لگنے کی کیپسٹی ہی نہیں۔ بزنس کلاس بوگی کا سرکٹ تھری لیئر سیفٹی ڈیوائس اور بریکر سے منسلک ہے۔ بوگی کے اندر مخصوص بریکرز اور PVCوائر کو استعمال کیا جاتا ہے جس سے شارت سرکٹ کے خدشات بہت ہی کم ہیں۔اے جی ایم رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک ایجنسی کی رپورٹ میں بھی حادثے کے مقام سے سلفر کے شواہد ملے۔ جس سے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کے شواہد ملتے ہیں لیکن ایف جی آئی آر کی طرف سے شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کے برعکس رپورٹ فائنل کی گئی۔ رپورٹ میں ایڈوائس کی گئی ہے کہ ایف جی آئی آر تیزگام حادثے کی انکوائری رپورٹ پر نظر ثانی کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں