چوہدری شوگر ملز کی آڑھ میں ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ! شریف خاندان نے کس طرح 20 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی؟ حقائق نے پاکستانیوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ارشد شریف کا کہنا ہے کہ نیب کے مطابق چودھری شوگر ملز کے اثاثہ جات کی مالیت آج ساڑھے6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مگر جب یہ شوگر مل بنائی گئی اس وقت نوازشریف کے کل ظاہر شدہ اثاثہ جات کی مالیت 13 لاکھ روپے تھی۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق

ٹیٹیوں اور جعلی قرضوں کے ذریعے اس مل میں پیسا ڈالا گیا۔نجی ٹی وی چینل پر پروگرام کے دوران صحافی ارشد شریف نے بتایا کہ نیب کے مطابق چودھری شوگر ملز کے اثاثہ جات کی مالیت آج ساڑھے6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مگر جب یہ شوگر مل بنائی گئی اس وقت نوازشریف کے کل ظاہر شدہ اثاثہ جات کی مالیت 13 لاکھ روپے تھی۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق ٹیٹیوں اور جعلی قرضوں کے ذریعے اس مل میں پیسا ڈالا گیا۔نیب (قومی احتساب بیورو) کے مطابق یہ سارا پیسا کک بیکس، کرپشن اور کمیشن کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ جسے چودھری شوگر ملز میں بڑی چالاکی سے استعمال کیا گیا۔ چودھری شوگر ملز کیس میں ایک کمپنی چیڈرون جرسی پرائیویٹ لمیٹڈ کا ذکر آتا ہے۔یہ خبر 2016 میں سامنے آئی تو سٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے بیان جاری کیا کہ یہ خبر جھوٹ پر مبنی ہے۔ مگر 11اپریل 2016 کو اسمبلی تقریر کے دوران اعتزاز احسن نے سارا جھوٹ بے نقاب کر دیا۔دراصل چودھری شوگر ملز کیلئے مشینری خریدنا مقصود تھی جس کے لیے پیسے درکار تھے ان پیسوں کے لیے چیڈرون جرسی کمپنی شو کرائی گئی اور کہا گیا کہ اس کمپنی سے شوگر ملز کے لیے مشینری خریدنی ہے اس کام کے لیے فیصل اسلامی بینک سے قرضہ لیا گیا جس قرضے کو بعد میں معاف کرا لیا گیا۔نیب کے مطابق مشینری بعد میں اتفاق فونڈری اور حمزہ سپننگ ملز سے خریدی گئی اور قیمت بہت زیادہ ظاہر کی گئی اور جو پیسے چیڈرون کی جانب سے پاکستان آنے تھے ان کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں اور 20 ملین ڈالر ملکی خزانے میں آئے بغیر کسی کو کانوں کان خبر لگنے سے پہلے منی لانڈر کر دیئے گئے۔ظاہر کیا گیا کہ یہ 20 ملین ڈالر قرض ادائیگی کی مد میں گئے ہیں۔ نیب کی چودھری شوگر ملز میں کارروائی کے دوران ایک ایسے معاہدے کی کاپی ہاتھ لگی ہے جو کہ چودھری شوگر ملز، چیڈرون جرسی اور فیصل اسلامی بینک کے درمیان تھا۔ یہ معاہدہ 15 ملین ڈالر کا تھا، جس کا آج تک کوئی وجود نظر نہیں آیا۔اس معاہدے میں ایک خط سامنے آیا جو کہ چودھری شوگر ملز کی جانب سے سٹیٹ بینک کو لکھا گیا تھا کہ رقم متبادل ذرائع سے حاصل کر لی گئی ہے۔ اس معاہدے کی کاپی پر شہباز شریف کے بطور سی ای او چودھری شوگر ملز دستخط بھی موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں