اچھا تو یہ وہ شخصیت تھیں۔۔!! عمران خان 2014ء کے دھرنے میں جس ’ایمپائر‘ کی انگلی اُٹھنے کا اشارہ کرتے رہے وہ کون نکلی؟ پاکستانیوں کو جواب دے دیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران مارشل لاء نافذ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔اسی متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بات تو اس وقت ہی میڈیا کی زینت بن گئی تھی۔

جو بات نواز شریف نے کی وہ میں نے خود تین بار ٹی وی پر کی۔پی ٹی آئی کے دھرنے کی پشت میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ ظہیرالاسلام تھے۔عمران خان نے جو امپائر کی انگلی والی بات کی تو وہ دراصل انہی کی انگلی تھی۔اس بات پر عسکری قیادت میں بھی بحث ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہم مارشل لاء نہیں لگائیں گے۔میں وزیر دفاع بھی تھا۔اور اسی وقت حامد میر کو گولیاں بھی لگی تھیں۔یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے۔میں اسی رات حامد میر کے پاس گیا۔حامد میر کو گولیاں لگنے کے واقعے میں بھی بہت سے کرداروں کے نام آئے۔یہ ساری چیزیں اس وقت پبلک ہو گئی تھیں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بدھ کے روز اپنی جماعت کے اہم اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نواز شریف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ 2014 کے دھرنوں کے دوران انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ مارشل لاء نافذ کر دیا جائے گا۔نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ نے پیغام بھیجا تھا کہ آپ استعفیٰ دے دیں ورنہ مارشل لاء لگ جائے گا۔ ظہیرالاسلام نے کہا کہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ مجھے آدھی رات کو ظہیرالاسلام کا یہ پیغام ملا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اگر آپ استعفیٰ نہیں دیں گے تو نتائج بھگتنا پڑیں گے ، مارشل لاء بھی لگ جائے گا۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ پیغام موصول ہونے کے بعد میں نے کہا کہ جو ہونا ہے ہوجائے، آپ نے جو کرنا ہے کرلیں، میں اس طرح استعفیٰ نہیں دوں گا۔ نواز شریف کا مزید کہنا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں مداخلت نہیں کی جائے گی، لیکن جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری کی جانب سے آرمی چیف سے ملاقات کے حوالے سے جو دعوے کیے گئے ہیں، ان کی تاحال کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں