ملکی صنعت وخزانے کو نقصان پہنچانے کا معاملہ : میں اعتراف کرتا ہوں ، میں بھی اس کار خیر میں شریک تھا ۔۔۔۔ پاک فوج کے ایک سابق اعلیٰ افسر کے اعتراف نے نئی بحث چھیڑ دی

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے اپنی فوجی سروس کے کئی برس ان علاقوں میں گزارے ہیں۔ سوات، مالاکنڈ، درگئی، مردان، رشکئی، نوشہرہ، پشاور، خوجک پاس، چمن، ژوب، کوئٹہ، نوشکی، تفتان، خضدار، آواران، تربیت اور گوادر میں آمد و رفت کے ’وسیع مواقع‘ ملے۔ نہ صرف افغان۔ پاکستان سرحد بلکہ ایران۔ پاکستان سرحد پر آنا جانا

پاک فوج کے ایک سابق افسر اور نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور وہاں کی آبادیوں سے ہمکلام ہونا میرے لئے یوں بھی آسان تھا کہ میں ان کی زبانیں (دری، فارسی، پشتو) بڑی روانی سے بول اور سمجھ سکتا تھا۔ میرے رشتہ دار اور دوست اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر جہیز دینے کے لئے مجھ سے فرمائشیں کیا کرتے تھے کہ چونکہ آپ ان ‘ علاقوں میں سروس کرتے ہیں اور وردی پوش بھی ہیں اس لئے غیرملکی کراکری، کٹلری، الیکٹرانکس کا سامان اور پارچہ جات منگوانے کے لئے فرمائشوں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ ان علاقوں میں سروس کے دوران میں نے ہزاروں لاکھوں کا سامان لا کرکے اپنے محلے داروں اور رشتہ داروں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں کے جہیز کے لئے یہ ’کارِ نیک‘ انجام دیا۔ا ور مجھ پر ہی کیا منحصر ان علاقوں میں آج بھی جو آرمی آفیسرز ملازمت کرتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھ لیں۔ ویسے تو آج پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں باڑہ مارکیٹیں کھل گئی ہیں اور حیات آبادوں کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہی لیکن آج بھی سرحدی باڑوں کی خریداری، شہری باڑوں کی نسبت زیادہ دامنِ نگاہ کھینچتی ہے۔ ہم نے اس غیر ارادی کام کی وجہ سے اپنی ملکی اور مقامی صنعتوں کو جو نقصان پہنچایا وہ ایک الگ باب ہے اور اس کا ذکر ایک ضخیم کتاب کا موضوع ہے لیکن میں تو آپ کو اس ’ثواب‘ کا حال بتا رہا ہوں جو بہو بیٹیوں کے جہیزوں کے نام پر کمایا گیا……

پیر وارث شاہ یادآ رہے ہیں:کئی ہیر دی کرے تعریف شاعر متھے چمکدا حسن مہتاب دا جی۔۔چلو لیلۃ القدر دی کرو زیارت، وارث شاہ ایہہ کم ثواب دا جی۔۔انگریز بادشاہ نے ان علاقوں پر سو سال تک (1846ء تا 1947ء) حکومت کی۔ پاکستان کی مغربی سرحد، بالخصوص سابق فاٹا (FATA) پر برٹش انڈین آرمی کی لڑائیاں نہائت شدید اور سبق آموز ہیں۔آخر میں تھک ہار کر انہوں نے یہ لڑائیاں بند کر دیں یہ خطہ دنیا بھر میں نرالا ہے اور کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا!پہلی بار جب 1968ء میں میری پوسٹنگ، پنجاب رجمنٹ ٹریننگ سنٹر، مردان میں ہوئی تو اس کے آفیسرز میس کی لائبریری میں برطانوی افسروں کی تصنیف کردہ درجنوں تواریخ کو کھنگالنے کا موقع ملا۔ میں، ان ایام میں دفتر سے دوپہر کو میس (Mess) میں جاتا، دوپہر کا کھانا کھاتا، ایک گھنٹہ گھر آکر آرام کرتا، چار بجے سپورٹس کی لازمی ڈرل سے فارغ ہوتا، پھر گھر جاتا، غسل کرتا اور میس کی لائبریری کا رخ کرتا اور رات گئے تک ان سرحدی مہمات کی داستانیں پڑھتا رہتا جو امیر حمزہ کی داستانوں سے زیادہ حقیقی، دلچسپ اور معلوماتی تھیں۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد گھر جاتا تو ایک دو کتابیں بغل میں ہوتیں اور رَت جگے کا سامان بنتیں۔ میں نے تقریباً دو برس اس رجمنٹ سنٹر میں گزارے اور کوئی رات ایسی نہ گزری جب میری بیڈ سائڈ ٹیبل پر فاٹا کے ان علاقوں اور فرنٹیئر میں لڑے جانے والے معرکوں سے متعلق کتابیں موجود نہ تھیں۔ایک ایسی ہی تاریخ میں 1865ء سے لے کر 1870تک کے ان آپریشنوں کی تفصیل درج تھی جو برٹش آرمی کو ان علاقوں (فاٹا اور فرنٹیئر) میں پیش آئے۔ ان میں ’دیسی سپاہ‘ کے علاوہ کئی انگریز سولجرز اور آفیسرز جان سے گئے…… خدا لگتی بات یہ ہے کہ برٹش سولجرز نے ان علاقوں میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں اور جب ان کو کامیابی نہ ہوئی تو پھر ایک بڑی فورس ان علاقوں میں صف بند کرکے سرحدی چھاؤنیاں قائم کیں تاکہ ان کے عقب میں ان کے مفتوحہ علاقے (پنجاب سے لے کر بنگال تک) محفوظ و مامون رہ سکیں …… مالاکنڈ، رسالپور، نوشہرہ، پشاور، جمرود، طورخم، کوہاٹ، ٹل، فورٹ سنڈیمان (ژوب) اور اس طرح کی کئی چھاؤنیاں آج بھی اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ ان علاقوں کے باسیوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے اور ان کی غلامی قبول نہ کی۔ جیسا کہ اوپر لکھا، میری پوسٹنگ 1968ء میں مردان میں ہوئی اور جس کتاب کا ذکر سطورِ بالا میں کیا ہے وہ 1865ء سے 1870ء کے درمیانی پانچ برسوں کے آپریشنوں کے حالات و واقعات پر مشتمل تھی…… اس کے صفحہ اول پر کسی من چلے پاکستانی آفیسر نے ایک انڈین فلمی گانے کا یہ مکھڑا لکھا ہوا تھا:سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا۔۔۔آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں