وہ کون سے دو ایسے نام ہیں جن پر دوزخ کی آگ حرام ہے ؟ جان کر ہر کوئی اپنے بچوں کے وہ نام رکھنا چاہے گا

کسی نو مولود کانام رکھنا ایک اہم مرحلہ ہو تا ہے ۔آج کل کے ماڈرن نام صوتی حوالے سے جتنے بھی بھلے معلوم ہوں انہیں اس وقت تک رکھنے سے گریز کرنا چاہیے جب تک ان کے معنی اچھے اور مثبت ہونا ثابت نہ ہو جائے ۔مسلمان بچے کاا چھا نام

کس طرح رکھا جائے ،اس حوالے سے سوالاً جواباً درجِ ذیل مضمون پیشِ خدمت ہے ۔سوال:قرآن پاک میں اچھا نام رکھنے کی کیا دلیل ہے؟جواب:اللہ عزوجل فرماتا ہے :(ترجمہ)اے ایمان والو! نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے ،دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو۔ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔کیا ہی برانام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جوتوبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔سوال:احادیثِ مبارکہ سے اچھا نام رکھنے کی کیا دلیل ہے؟جواب:یوں تو بہت سی احادیث ہیں جن سے یہ بات ثابت ہے مگر چند ایک درج ذیل ہیں ۔حدیث نمبر 1․․․․․․بیہقی نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے ۔حدیث نمبر 2․․․․․اصحابِ سننِ اربعہ نے عبداللہ بن جوادرضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کو ان کے اچھے ناموں سے پکارو،برے الفاظ سے نہ پکارو۔حدیث نمبر 3․․․․․․․․․صحیح مسلم میں ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے ناموں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پیارے نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں ۔حدیث نمبر 4․․․․․․امام احمد ابوداؤد رحمتہ اللہ نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

قیامت کے دن تم کو تمہارے ناموں اور تمہارے باپوں کے نام سے بلایا جائے گا لہٰذا اچھے نام رکھو ۔حدیث نمبر 5․․․․․․دیلمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرہ والوں سے طلب کرو۔حدیث نمبر 6․․․․․․ابنِ عسا کر ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس کے لڑکے پیدا ہوں اور و ہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کانام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں بہشت میں جائیں گے ․․․․․حدیث نمبر 7․․․․․․․حافظ ابو طاہر سلفی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں روز قیامت دو شخص رب العزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے اورحکم ہو گا انہیں جنت میں لے جاؤ۔عرض کریں گے الٰہی ! ہم کس عمل پر جنت کے قابل ہوئے ،ہم نے تو جنت کا کوئی کام نہیں کیا۔اللہ فرمائے گا جنت میں جاؤ میں نے حلف کیا ہے کہ احمد یا محمد ہو ،دوزخ میں نہیں جائے گا۔حدیث نمبر 8․․․․․․․حاکم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب لڑکے کانام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کیلئے جگہ کشادہ کرو اور اس برائی کی طرف نسبت نہ کرو۔حدیث نمبر 9․․․․․ترمذی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برے نام کو بدل دیتے تھے ۔حدیث نمبر 10․․․․․صحیح مسلم شریف میں ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی کانامہ عاصیہ تھا،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔سوال:اللہ کے نزدیک کون سے نام زیادہ محبوب ہیں ؟جواب :اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے ان دونوں میں سے زیادہ افضل نام عبداللہ ہے کہ عبودیت کی اضافت علم ذات کی طرف سے ۔انہی کے حکم میں وہ اسماء ہیں جن میں عبودیت کی اضافت دیگر اسماء صفاتیہ کی طرف ہو مثلا عبدالرحیم ،عبدالملک ،عبدالخالق وغیرہ ۔حدیث میں جو ان دونوں ناموں کو تمام ناموں میں خدا تعالیٰ کے نزدیک پیارا فرمایا گیا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنانام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہوتو سب سے بہتر عبداللہ اوعبدالرحمن ہیں ۔وہ نام نہ رکھے جائیں جو زمانہ جاہلیت میں رکھے جاتے تھے کہ کسی کا نام عبدشمس اور کسی کانام عبدالدار ہوتا ۔سوال :کیا یہ دونوں نام محمد واحمد سے بھی افضل ہیں ؟جواب : جی نہیں ،یہ بات ہر گز نہیں سمجھنی چاہئے کہ یہ دونوں نام محمد و احمد سے افضل ہیں کیونکہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک پاک محمد واحمد ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے منتخب

فرمائے۔اگر یہ دونوں نام محبوب نہ ہوتے تو رب تعالیٰ اپنے محبوب کیلئے پسند نہ فرماتا۔حدیث شریف میں ہے ابو نعیم نے حلیہ میں نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم جس کا نام تمہارے نام پر ہو گا اسے عذاب نہ دوں گا۔سوال:حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ کرو،کیا یہ بات درست ہے؟جواب:جس کا نام محمد ہو وہ اپنی کنیت ابو القاسم رکھ سکتا ہے اور حدیث شریف میں آتا جو ممانعت آئی ہے وہ حضور اقدس کی حیات ظاہری کے ساتھ مخصوص تھی ۔سوال:اگر کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتے ہی فوت ہو جائے تو کیا اس کا نام رکھنا چاہئے؟جواب :مرا ہوا بچہ پیدا ہوا ہو تو اس کا نام رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ،بغیر نام رکھے ہی دفن کر دے اور اگر بچہ پیدا ہوا اور پھر مرگیا تو دن سے پہلے اس کا نام رکھا جائے ۔لڑکا ہوتو لڑکوں کا سا اور لڑکی ہوتو لڑکیوں کا سانام رکھے ۔سوال:کیا بچے کی کنیت رکھنا جائز ہے ؟جواب :بچہ کی کنیت ابو بکر،ابو تراب ،ابوالحسن وغیرہ رکھنا جائز ہے ۔ان کنتیوں سے سے تبرک مقصود ہوتا ہے کہ ان حضرات کی برکت بچہ کے شامل حال ہو ۔سوال :برز گانِ دین کے القابات پر نام رکھنا جائز ہیں یا نہیں ؟جواب:ایسے نام جن میں خود ستائی اور زبردست قسم کی تعریف

پائی جاتی ہو ایسے نام رکھنے نہیں چاہئیں جیسے شمس الدین ،زین الدین ،محی الدین ،فخر الدین ،نصیر الدین ،سراج الدین ،نظام الدین،قطب الدین وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جن میں زبردست تعریف ہے ،نہیں رکھنے چاہئیں۔رہایہ کہ بزرگان دین ائمہ سابقین کو ان ناموں سے یاد کیا جاتا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ان حضرات کے نام نہ تھے بلکہ ان کے القابات ہیں کہ جب وہ حضرات مراتب علیہ اور مناسب جلیلہ پر فائز ہوئے تو مسلمانوں نے اس طرح کہا۔ایک جاہل اوران پڑھ جو ابھی پیدا ہوا ،اس نے دین کی کوئی خدمت نہیں کی اتنے بڑے الفاظ ضخیمہ سے پکارا جائے۔سوال :کسی نام کے ساتھ غلام لگانا جائز ہے ؟جواب :غلام محمد ،غلام صدیق،غلام فاروق،غلام مصطفی ،غلام مرتضیٰ ،غلام حسن،غلام حسنین وغیرہ اسماء جن میں انبیائے کرام رضی اللہ عنہ وصحابہ رضی اللہ عنہ واولیائے کرام رضی اللہ عنہ کے ناموں کی طرف غلام کی اضافت کرکے نام رکھا جائے ، یہ جائز ہے ۔سوال :سنا ہے کہ غفور نام نہیں رکھنا چاہئے ،کیا یہ درست ہے ؟جواب :اگر نام غفورالدین یا غفور اللہ رکھا تو یہ ناجائز ہے کیونکہ غفور کے معنی ہیں مٹانے والا۔اللہ تعالیٰ غفور ہے اور وہ بندوں کے گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔لہٰذا غفور الدین کا مطلب ہوا دین کا مٹانے والا۔اگر نام عبدالغفور رکھا تو جائز ہے کہ غفور کا بندہ ۔سوال :کیا حروفِ مقطعات پر نام رکھا جا سکتا ہے ؟جواب :حروفِ مقطعات قرآنیہ جیسے طہٰ رضی اللہ عنہ یٰسین نام نہ رکھے جائیں ،ان کے معنی معلوم نہیں ہیں ۔ظاہر ہے اسمائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں ۔بعض علماء نے اسمائے الٰہیہ سے کہا ہے ۔بہر حال جب معنی معلوم نہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس کے ایسے معنی ہوں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ ملا کر محمد طہٰ ،محمد یٰسین کہنا بھی ممانعت کو دفع نہیں کرے گا۔سوال :بعض لوگ اپنے ناموں کے ساتھ نبی کا نام لگاتے ہیں ،کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟جواب :محمد نبی ،احمد نبی ،محمدرسول ،احمد رسول ،نبی الزماں نام رکھنا بھی ناجائز ہیں بلکہ بعض کا نام نبی اللہ بھی سنا گیا ہے جبکہ غیر نبی کو نبی کہنا ہر گز ہر گز جائز نہیں ہو سکتا ۔البتہ غلام نبی کہنا درست ہے مطلب نبی کا غلام ۔سوال:اچھے نام اور برے ناموں کی حقیقت کے بارے میں وضاحت فرمائیے؟جواب:ناموں میں اچھائی اور برائی کا ضرور لحاظ ہوتا ہے ۔اچھے نام کا شخصیت پر اثر ہوتا ہے ۔بزرگان دین کے نام میں برکت ہوتی ہے اور یہ نام باعث نجات ہوتے ہیں ۔اگر ناموں میں معنی کا لحاظ نہ ہوتا تو لوگ شیطان ابلیس وغیرہ کے ناموں سے گریزنہ کرتے ،ناموں میں اچھے اور برے ناموں کی دو اقسام نہ ہوتیں ۔حدیث میں آتا ہے کہ اچھے نام رکھو ۔نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے برے ناموں کو بدلا۔اس لئے اچھے نام رکھے جائیں تا کہ شخصیت پر اثر انداز ہوں اور نجات کا سبب بنیں۔