مجرم اب لندن میں بیٹھ کر ہنستا ہوگا۔۔!! نواز شریف کس طرح ملک سے باہر گئے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس،اشتہاری قراردینے کی کارروائی شروع

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنسز میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کر دی۔نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرنے والے افسروں کی شہادت قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سماعت کے

دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مجرم عوام اور حکومت کو دھوکہ دے کر گیا۔مجرم لندن میں بیٹھ کر حکومت اور عام پر ہنستا ہو گا۔نہایت شرمندگی کا مقام ہے۔دیکھنا ہے کیا جان بوجھ کر عدالتی کاروائی سے فرار ہوا جا رہا ہے ؟عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے،18 ہزار کیسز زیر التوا ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حکومت جو کر سکتی ہے کرے،ہم وسیجر کے تحت چل رہے ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ کیا ہم لکھ سکتے ہیں کہ ملزم نواز شریف کہیں روپوش ہوا ہے؟درخواست گزار نواز شریف تو پوری قوم سے خطاب کر رہا ہے۔عدالت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلر راؤ عبدالحنان کا بیان بھی ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ جب کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب اور وفاقی حکومت کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ انہوں نےغیر قانونی ذرائع کی مدد سےحاصل کی گئی رقم سے لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار رہائشی اپارٹمنٹس خریدے ۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو

جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی ، سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے ۔اس کے بعد ایون فیلڈ ریفرینس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹین ریٹائرڈ محمد صفدر کو دی گئی سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اپیل خارج کردی تھی ۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا ۔اس کے بعد نوازشریف نے اپنی سزا معطلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی اور یہ استدعا کی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کیا جائے ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں وزیر اعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کی اور حکم دیا کہ 8 ہفتوں کے بعد بھی اگر نواز شریف کی طبعیت میں بہتری نہیں آتی تو ان کی سزا کی معطلی میں توسیع کے لیے حکومت پنجاب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔